ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 164
مسلمان کے لئے اطاعت اللہ اوراطاعت الرسول و اطاعت اولی الامر ضروری۔اگر اولی الامر صریح مخالفت فرمان الٰہی اور فرمانِ نبوی کی کرے تو بقدر برداشت مسلمان اپنی شخصی و ذاتی معاملات میں اولی الامر کا حکم نہ مانے یا اس کا ملک چھوڑ دے۔(النِّسآء :۶۰) صاف نص ہے۔اولی الامر میں حکام و سلطان اوّل ہیں اور علماء و حکماء دوم درجہ پر ہیں۔میں نے سابق ذکر کیا ہے کہ ایمان کا ادنیٰ مرتبہ اور اس کے اوپر ایمان قسم قسم کی ترقی کرتا ہے اس لئے جو لوگ صرف لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ کہتے ہیں اور دل سے مانتے ہیں وہ ایک حد کے مسلمان ہیں اور جو لوگ نماز کے پابند ہیں وہ ان سے بڑھے۔اور جو زکوٰۃ و روزہ وحج کے بھی پابند ہوئے وہ اور بڑھے علیٰ ھذا۔اللہ تعالیٰ بھی علی المومن ہے کیونکہ المومن المھیمن نص قرآنی ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وبارک بھی جبرائیل اور خلفائے راشدین اور تابعین اور آپ بھی کیا سب مساوی الایمان نہیں اور ہرگز نہیں ہاں (البقرۃ :۸۶) والوں کے لئے یہ سزا ہے جیسے فرمایا۔(البقرۃ :۸۶)آپ مسلمانوں کو دیکھ لو۔لڑکیوں کے حِصّے نہ دئیے وہاں خلاف ورزی پر عذاباً مُّھِیْنًا موجود ہے اور یہاں ہم مشاہدہ کرتے ہیں مسلمانوں کے لئے بھی وہی ضرورتیں ہیں جو سارے جہاں کے لئے قدرت نے رکھی ہیں۔مسلمانوں کے لئے وہی سامان انجاح مرام کے لئے لابد ہیں جو تمام مخلوق کے لئے لا بد ہیں۔الٰہی فضل کو کوئی اگر ایک شخص اکیلا رہ کر حاصل کرنا چاہے تو صرف وہی فضل لے سکتا ہے جو اکیلے انسان کے لئے ہیں مثلاً ایک شخص حسد، طمع اور کسل کو اگر ترک کر دے تو تارک طمع و تارک حسد و تارک کسل کے لئے وہ صرف انعامات مل سکیں گے جو ان رذائل کے تر ک کے لئے وابستہ ہیں۔اگر تہجد گزار پابند صوم و صلوٰۃ تارک رذائل مذکورہ شادی نہ کر کے تندرست بی بی حاصل نہ کر کے اولاد کا طالب ہو تو اسے اولاد ہرگز نہ ملے گی۔پھر اگر تندرست آدمی تندرست بی بی سے تعلق پیدا