ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 91 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 91

بل اس پر اگر زیادہ غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے کبھی ادنیٰ معاملات کے لئے دعا بھی نہ منگوائی کہ میرے اولاد ہو میرا مال بڑھے تجارت میں نفع ہو جیسے آج کل امتحانات کی کامیابی ، ترقی تنخواہ ، اولاد ، دفائن خزائن پر اطلاع ، واقعات کے قبل از وقت اطلاع کی خواہشیں نظر آرہی ہیں۔ہاں اوامر الٰہیہ میں فطرت کے نیچے رہ کر تقاضات فطرت کو پورا کرنا ضروری ہے بشرطیکہ ہوا خواہان تجربہ کار سے مستورہ نظر بر تال اور دور بینی کی جاوے۔(الشوری :۳۹)  (آل عمران :۱۶۰) پھر عزم تام ، پھر تدابیر کاملہ ، پھر شجاعت اور ہمت بلند اور استقلال وصبر آخر میں حزم واحتیاط تام سے کام لے۔اعوان وانصار بل اعدا ء کے ساتھ بھی لطف ، نرمی ، تجاہل ، اغماض سے کام لے۔تعدّدِ ازواج کی ضرورت التقوٰی وحفظ القوٰی (۱) عدم موافقت ہے اور طلاق کا موقع نہیں (۲)عقم (۳)حمل اور اس پر ارضاع کی مدت درازاور علاوہ براں مرد تناسلی مزاج ہے (۴)کثرت تولد بنات بعض بلاد و خاندانوں میں (۵)پولیٹیکل مصالح اور سیاست کی ضرورت (۶)عورتیں غالباً پچاس برس کے بعد قابل نسل نہیں رہتیں بخلاف مردوں کے کہ وہ نوے برس تک ہمارے ملک میں قابل ہیں (۷) قدرتاً عورت مرد انسانی نسل میں جوڑا پیدا نہیں ہوتے۔(۸)مشاہدہ کثرت زنا جن بلاد میں تعدد ازدواج جائز نہیں (۹)وقوع قتل ازدواج ایسے بلاد میں بضرورت محبت کسی اور سے (۱۰)عورتوں کو ممکن نہیں کہ ایک سال میں مرد کے لئے کئی لڑکے جن دیں اور مردوں کو ممکن۔(۱۱) قدرت نے توالد تناسل میں عورت کو بہ نسبت مرد کے بہت بوجھ رکھا ہے اور اولاد کے منافع میں قریباًدونوں شریک ہیں۔مندرجہ بالا اسباب ہیں جو تعدد ازواج کی ضرورت کو بیان کرتے ہیں۔غور طلب عالم کا ہر ایک واقعہ نصیحتوں کی کتاب اور خود انسان کا نفس عبرتوں کا دفتر ہے۔قرآن مجید ان تمام نصیحتوں اور عبرتوں کی یاد دہانی سے بھرا ہوا ہے پھر لوگ کچھ نہیں سمجھتے