ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 90
طمع (۳؍مئی ۱۸۹۹ء کو یہ چند تفہیمات ہوئیں) طمع اور طامع طمع سے سرقہ پیدا ہوتا ہے۔طامع کا پہلے تو اشیاء صغیرہ پر ہاتھ پڑتا ہے پھر قطع ید تک اس کی نوبت پہنچتی ہے۔قَالَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ لَعَنَ اللّٰہُ السَّارِقَ یَسْرِقُ الْبَیْضَۃَ یُقْطَعُ یَدُہٗ ( صحیح البخاری کتاب الحدود، باب لعن السارق إذا لم یسم) محسنوں پر تعدی کرتا ہے پھر اقرب الاقارب‘ اخوان پر پھر قابل اساتذہ واحباب پر۔طمع کی اولاد میں طولِ امل ہے اور اس کے احفاد میں ہے۔تَوَلَّی عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ تَوَلّٰی عَنْ کِتَابِ اللّٰہِ اُنْظُرُوْا۔ (البقرۃ : ۱۰۳) اشغال باللعب اسی طمع کی نسل ہے۔طمع کا نتیجہ ناکامی ، سوء ظن علی اللہ ، حسن ظن علی النفس ، بد اخلاقی طامع اخوان واحباب سے کیونکہ جس عزت، فتح ونصرت ،فضل کا امید وار ہوتاہے وہ کامل طورپرنصیب نہیں ہوتے۔تو کبھی مولیٰ کریم ربّ العالمین، رحمان رحیم اور اس کی تقدیر پر نعوذ باللہ تبر ّے بول اٹھتا ہے اور کبھی احباب و انصار کوہدف ملامت بنا کر اپنا دشمن بنا لیتا ہے۔فعل ما قدر کو جانتا ہی نہیں کہ کس مامور کا ارشاد ہے صلی اللہ علیہ وسلم (آل عمران :۱۵۳) اور (التوبۃ :۲۵) واقعات صحیحہ ہیں کہ نہیں۔اسی واسطے اعلیٰ طبقہ مہاجر وانصار نے کبھی نہ چاہا کہ مجھے فلاں حکومت میں حصہ ملے اور فلاں تحصیل اموال میں مجھے بھیجا جاوے۔فضل اور عبد المطلب بن حارثہ کے والدین نے ارادہ کیا اور ابوالامۃ بعد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ابوالحسن علیہ السلام کی مخالفت اس امر میں ابو موسیٰ کے ساتھیوں کا مال طلب کرنا سرور عالم فخر بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم کا آپ کو محروم کرنا ابو موسیٰ اشعری کا عذر شواہد عدل ہیں۔