ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 69
اور صداقت کو پالیتا ہے تو الہام الٰہی کی کیا ضرورت ہے مگر میںان لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ وہ آنکھ بند کر کے نظارہ قدرت کو کیوں دیکھتے ہیں۔دیکھو دنیا میں گھاس پھوس سب کچھ موجود ہے مگر جب تک آسمان سے بارش نہ برسے تو وہ گھاس پھوس ہر گز نشوونما نہیں پاسکتے۔بلکہ زمینی کنووں کا پانی تک خشک ہونے لگتا ہے۔اسی طرح پر اگر الہام الٰہی کی بارش نہ ہو تو عقل اور وجدان اسی گھاس کی طرح سوکھ جاوے جب کہ جسمانی نشوونما آسمانی بارش کے بدوں نہیں ہوسکتا تو روحانی نشوونما کلام الٰہی کے بغیر کیونکر ہوسکتا ہے؟ پس یہ کیسی آسان دلیل ضرورت الہام اور ضرورت نبوت پر ہے۔(الحکم جلد۴ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۳؍ جولائی ۱۹۰۰ء صفحہ ۶) دو آسمانی امان حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول مجھے بہت ہی پیارا معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے دو امان نازل ہوئے تھے ایک تو ان میں سے اٹھ گیا یعنی رسول اللہ ﷺ کا وجود باجود مگر دوسری امان قیامت تک باقی ہے اور وہ استغفار ہے۔(الانفال : ۳۴) پس استغفار کرتے رہاکرو کہ پچھلی برائیوں کے بد نتائج سے بچے رہو اور آئندہ بدیوں کے ارتکاب سے۔خدا باپ اور ربّ خداباپ۔یہ لفظ اب تین قومیں استعمال کرتی ہیں۔عیسائی، یہودی، آریہ،برہمو اللہ تعالیٰ کو ماں کہتے ہیں مگر مسلمان ہیں کہ وہ ربّ کہہ کر پکارتے ہیں۔ربّ اس کو کہتے ہیں جو ہر وقت اور ہر حال میں ہر قسم کی مخلوق کی پرورش کرتا اور تکمیل تک پہنچاتا ہے اور اس کا فیضان بہت وسیع ہے۔برخلاف اس کے ابّ(باپ) کا تعلق اپنے ہی ابن سے اور وہ بھی خاص وقت اور خاص حد تک۔پس بندہ ہر آن ربّ العٰلمین ہی کا محتاج ہے کوئی کام نہیں آتا مگر ربّ۔جو خدا کو باپ یا ماں پکارتے ہیں نہ انہوں نے خدا کی ہستی کو سمجھا ہے اور نہ اپنے آپ کو پہچانا ہے۔