ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 68 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 68

اَلنُّصْحُ لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اَلنُّصْحُ لِلّٰہ سے یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان ہو ہر قسم کے شرک سے بیزار ہو۔اللہ تعالیٰ کے اسماء گرامی میں کسی قسم کا الحاد اور ان کی بے حرمتی نہ کرے بلکہ حیا کرے اللہ تعالیٰ کو تمام نقائص سے منزہ یقین کرے اور تمام صفات کاملہ سے موصوف مانے۔ان کی فرمان برداری میں فرضی ہویا نفلی، اعتقادی ہو یا عملی، قولی یا فعلی سب میں چست وچالاک ہو اور اس کی نافرمانیوں سے بچتا رہے۔اپنی جان، مال، اولاد، دوستوں کے ساتھ اگر محبت ہو تو خدا ہی کے لئے ہو اور اگر بغض ہو تو اللہ ہی کے لئے ہو۔جناب الٰہی کے فرمان برداروں سے محبت اور نافرمانوں سے عداوت ہو۔منکروں کے ساتھ جہاد جو ضرورت وقت کے لحاظ سے مناسب ہو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اقرار اور ان کی قدر کرے اور تمام نیکیوں کو اخلاص سے بجالاوے۔تمام بھلی باتوں کی طرف لوگوں کو بلاوے، ترغیب دے اور باریک سے باریک تر اس معاملہ میں کوشش کرے۔اور اَلنُّصْحُ لِلرَّسولِ سے یہ مراد ہے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کرے جو کچھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام لائے ہیں ان سب پر ایمان لاوے آپ کے احکام کی فرمانبرداری جن باتوں سے آپ نے منع فرمایا ہے ان سے رک جاوے آپ کی زندگی کے وقت اور موت کے بعد نصرت اور حمایت کرنا۔آپ کے دوستوں کا دوست اور دشمنوں کا دشمن ہو، آپ کی تعلیم اور مطالب کو زندہ کر کے ان کی اشاعت کرنا، آپ کی محنت فی اللہ کی داد دینا یعنی آپ کی کامیابیوں کے لئے درود شریف پڑھنا، آپ سے اتہام کو دور کرنا، اپنے کاموں میںان کے علوم سے مشورہ لینا آپ کے علوم کے معانی میں توجہ رکھنا ان کا پڑھنا پڑھانا ان کی بزرگی سمجھنا۔آپ کے آداب سے متأدب ہونا، آپ کے اہل بیت سے محبت رکھنا ،آپ کے صحابہ سے تعلق رکھنا، آپ کے ساتھیوں ناصروں اور آپ کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کرنا۔الہام الٰہی کی ضرورت پر ایک بات بارہا نیچر کے قدر نہ کرنے والے برہمو مزاج لوگوںکو کہتے سنا ہے کہ جب کہ قانون قدرت عقل اور وجدان موجود ہے اور ان سے انسان راستی