ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 56
پسندیدگی کا اظہار فرماویں اور بحکم( المائدۃ : ۳) ہمارا ساتھ دیں۔حضرت امام حجۃ الاسلام نے بھی اجازت دے دی ہے اور آمد و خرچ کے رجسٹر مجلس شوریٰ میں دکھائے جائیں گے اور قرآن شریف، کتاب، نقد، کرتا، پاجامہ، عمامہ، ٹوپی وغیرہ جو کچھ کسی سے میسر ہو ہر ایک فریسندہ کو بھیجنے کا اختیار ہے۔والسلام المعلن مولوی نورالدین بھیروی از قادیان (الحکم جلد ۴نمبر۱۱ مورخہ ۲۴ ؍مارچ ۱۹۰۰ء صفحہ۷) ایک قابل غور گرامی نامہ (مکتوب بنام مولانا شبلی نعمانی صاحب) ذیل میں ہم حضرت مولاناو مخدو منا مولوی نور الدین صاحب سلّمہ ربّہ ایک خط درج کرتے ہیں جو مولانا شبلی نعمانی کے نام لکھا گیا ہے اس خط کے پڑھنے سے جس قدر مفید نتائج ہماری قوم کو مل سکتے ہیں اس وقت ان کی ہم تفصیل نہ کریں گے صرف ناظرین کو اتنا بتلانا چا ہتے ہیں کہ اس خط کے لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے؟کچھ تھوڑا عرصہ گزرتا ہے کہ مولوی شبلی صاحب نے دائرۃ التالیف کے عنوان سے ایک لمبا چوڑا اشتہار شائع کیا تھا جس میں اخوان الصفا کے طرز پر فلسفیانہ مضامین لکھنے اور شائع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اور اس کو قوم کی بہت بڑی ضرورت اور غایت بتلایا تھا۔منجملہ اور مقاصد کے آخر میں قرآن کریم کی فصاحت اور بلاغت پر بھی مضامین لکھنے کا ارادہ دکھایا تھا۔کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت پر بھی مضامین لکھنے کا وعدہ یا ارادہ اسی جہت کا ہو گا جیسا علی گڑھ کالج کی دینی تعلیم۔اور تمام مقاصد کے اخیر میں اس کا رکھنا شاید اس وجہ سے ہو کہ عام مسلمانوں کو تنفرنہ ہو۔بہر حال شبلی صاحب کی غرض اس سے کچھ ہی ہو ہم کو اس پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں لیکن یہ ایک عام بات ہے کہ اگر شبلی صاحب نے اپنے زور قلم سے ایک ثابت شدہ صداقت کو کہ قرآن شریف افصح وابلغ کتاب ہے ، مکرر ثابت کرنے کی کوشش بھی کی تو سمجھ میں نہیں آتا کہ فائدہ کیا ہو گا ؟