ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 43 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 43

یُحِبَّ لِاَخِیْہِ مَایُحِبُّ لِنَفْسِہٖ (صحیح البخاری کتاب الایمان باب من الایمان ان یحب لاخیہ ما یحب لنفسہٖ) یعنی تم میں سے کوئی مومن کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے اس چیز کو دوست نہ رکھے جو وہ اپنے نفس کے لئے دوست رکھتا ہے۔یہ ہے اسلام اور اس کی تعلیم اب بتلاؤ کہ ایسے ملک میں جو سراسر جہالت ہو اور کوئی کتاب اس ملک میں نہ ہو ایسی سیرت اور تعلیم کا آدمی جس کی تمام تعلیم قویٰ فطری اور قانون قدرت کے موافق ہو جس میں تمام روحانی ضرورتیں موجود ہوں اگر معجزہ اور خرق عادت نہیں تو نظیر دو۔(الحکم جلد۳ نمبر۳۰ مورخہ ۲۴؍اگست ۱۸۹۹ء صفحہ۲ ،۳) مکتوب بنام مولوی عبدالجبار غزنوی ثم امرتسری ذیل میں ہم اپنے محسن و مخدوم حضرت مولانا مولوی حکیم نور الدین صاحب سلمہ ربہ کا ایک اور گرانقدر گرامی نامہ درج کرتے ہیں جو مولوی عبدالجبار غزنوی ثم امرتسری کے نام آپ نے مسلمانوں کو اس حالت پر رحم کھا درد دل سے لکھا تھا جوآج کل روحانی طور پر خصوصاً بگڑ رہی ہے۔ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ یہ بتلایا جاوے کہ یہ خط کیوں لکھا گیا اور اس کا کیا نتیجہ ہوا۔ہمارے ناظرین سے یہ امر اب پوشیدہ نہیں رہا کہ لاہور میں منشی الٰہی بخش اکائونٹنٹ نے کچھ دنوں سے الہامی رنگ میں حضرت اقدس کی مخالفت کا اظہار کیا ہے اور اپنی دو چار پرانے رفقاء کی دوست نوازی کی بنا پر کچھ ہاتھ پیر نکالے ہیںچونکہ اس سے ایک عظیم الشان اور خطرناک حربہ اسلا م پر ہوتا ہے کہ جب کہ ایک ہی مقدس ذات سے الہامات کا سلسلہ جاری ہے پھر کیا وجہ ہے کہ متضاد الہام ہوں؟ ایک کو اوّل المومنین اور مسیح موعود ہونے کا الہام ہو اور دوسرے کو اس کے خلاف۔اس لئے حضرت اقدس نے عامۃ المسلمین کی بھی خواہی کے لئے چاہا کہ ان مخالف الہاموں کو جمع کر کے توجہ کی جاوے تاکہ اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ او ر یقین کی راہ نکال دے۔اس پر ہمارے محسن و مخدوم حضرت مولانا نے غزنوی گروہ کے امام کے نام ذیل کا خط لکھا تاکہ ان کے پاس جو الہام حضرت اقدس کے خلاف موجود ہوں وہ لکھ کر بھیج دیں۔ان خطوط سے جو مختلف اوقات میں کبھی حافظ محمد یوسف کبھی منشی الٰہی بخش