ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 391 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 391

( حٰم ٓ سجدہ : ۴۳)یہ حکیم حمید خدا کی کتاب ہے اس میں کسی راہ سے جھوٹ کا کوئی دخل نہیں۔یہ کتاب باوجود ان خوبیوں کے جو اس میں ہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ کس ملک میں اتری ہے۔وہ ایسے ملک میں اتری جہاں نہ کوئی کالج تھا اور نہ کوئی یونیورسٹی۔اس ملک میں اس زمانہ کی تصنیف شدہ کسی علم کی کوئی کتاب نہیں ملتی نہ کوئی یادداشت دکھائی دیتی ہے۔زیادہ سے زیادہ دو علم ان میں رائج تھے۔ایک تو بسبب تجارت پیشہ ہونے کے ان کو علم حساب کی ضرورت رہتی تھی اس واسطے یہ علم ان میں پایا جاتا تھا۔دوسرا ان کو اپنی زبان کا فخر تھا اور ان میں سے کا ہرایک شخص اپنی زبان کے کچھ نہ کچھ اشعار یاد رکھتا تھا۔یہی ان سب کا مایہء فخر اور یہی ان سب کاما یہء علم تھا۔اس بات پر بہت بحث ہوئی ہے کہ علم حساب سب سے اوّل کہاں سے نکلا ہے مگر مجھے اس وقت اس بحث میں پڑنے کی کچھ ضرورت نہیں۔غرض یہ ہے کہ ہماری کتاب اس خدا کی طرف سے ہے جو سب کچھ جانتا ہے اور اس کتاب کی تعریف میں فرماتا ہے کہ کوئی نیا علم ، کوئی نئی سائنس، کوئی نئی تحقیقات ایسی نہیں ہوسکتی جو اس کتاب کو باطل کرسکے۔کوئی مشاہدہ کوئی تجربہ صحیحہ ، کسی زمانہ کی ترقی علوم ایسی نہیں ہے اور نہ ہوسکتی ہے جو اس کتاب کی مبطل ہوسکے۔نہ اس وقت اور نہ اس زمانہ کے بعد کوئی ایسا امر پیدا ہو سکتا ہے جو اس کو باطل کرسکے۔آنحضرت ﷺ کا دامن قیامت تک وسیع ہے۔یہ ایک بہت بڑادعویٰ ہے کہ قیامت تک کوئی ایسا امر پیدا نہ ہوگا جو کہ اس کتاب کا مبطل ہوسکے۔قرآن ہمیشہ سچا پایا تیرہ سو۱۳۰۰ برس کی ترقیات کو میں نے دیکھا اور پڑھا ہے۔یہ ترقی سائنس میںہو یا صوفیائے کرام میں ہو ہر ایک کے واسطے مسلمانوں میں بہت سامان موجود ہے۔کیونکہ یہ بڑی خوش قسمتی کی بات ہے کہ تمام علوم جدیدہ کا ترجمہ عربی میں ہوجاتا ہے۔غرض تمام موجودہ علوم کو میں نے دیکھا ہے ان سب کو پڑھ کر میں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان کو سچا پایا ہے۔جو شخص قرآن کو ہاتھ میں رکھے اس کے واسطے کوئی مشکل نہیں۔(البدر جلد ۷ نمبر ۳۱مورخہ ۱۳؍ اگست ۱۹۰۸ء صفحہ ۹)