ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 386 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 386

بھی، مولانا کریم الامت مرحوم ہر دو میں جہراً۔کئی سب جگہ خفا کرتے ہیں۔وَلِکُلِّ وِّجْہَۃٌ۔(۹)۔ظہر پہلی مثل میں نہ پڑھے تو دوسرے میں مع سنن پڑھ لے اتنی بڑی تدقیق شریعت میں نہیں ہے کہ گھڑی سے یا ظل سے ادنیٰ ادنیٰ باریکیوں میں اوقات ضائع کرے۔قضا کے ساتھ بھی سنتیں حضرت علیہ الصلوٰۃ نے فجر میں پڑھ لیں۔قسّ علٰی ہٰذا۔(۱۰)۔امام کے ساتھ بعد از رکعت اولیٰ ملے یا تیسری رکعت میں تو قعدہ میں عبدہ و رسولہ سے آگے پڑھتے جانا کوئی منع نہیں ہے۔منع کی کوئی سند نہیں ہے اور سلام پھیرنے تک ٹھہرے۔(۱۱)۔مسئلہ ترتیب قضا و ادا کی کوئی سند نہیں۔میں اس کا قائل نہیں۔(۱۲)۔وَاذْکُرُوا اللّٰہَ وَ اذْکُرَاسْمَ رَبِّکَ ان سے وہی ذکر مراد ہے جو بیان رسول اللہ اور احادیث سے قرآن سے ثابت ہے۔مفرد ذکر اللہ کسی نبی نے یا کامل ولی نے بطور استمرار نہیں کیا اور نہ یہ ماثور ہے۔(۱۳)۔عذابِ قبر عالم برزخ میں ہوتا ہے۔(عبس:۲۲) نبی کریم نے قبر ظاہری پر جا کر اس لئے یوں فرمایا کہ ظاہر کا نشان تحریک تھی جسم ایک جامہ ہے اتر جاتا ہے اس میں تجدید ہوتی ہے۔(۱۴)۔قیامت کے دن یہی جسم ہوں گے جو عند الموت ان سے الگ ہوتے ہیں۔مَنْ فِی الْقُبُوْرِ وَہِیَ اَقْبَرَہٗ کے قبر میں سارے اجزا یا بعض اجزا کا سوال احاطہ علیٰ علم اللہ ہے۔(۱۵)۔سات ہزار سال کو قیامت آئے گی۔قیامت صغریٰ یا کبریٰ اور کبریٰ قیامت آئے گی۔ضرور حشر اجساد جنت و نار سب ہوں گے۔احاطہ علیٰ ما یعلمہ اللہ کا سوال بے ہودہ ہے۔(۱۶)۔فوری کرامات کا اصل توجہ تصرف بالمشاہد فی المشاہدات اسپرو چولیزم تصرف بالروح