ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 384
خاموش کرتا ہے لہٰذا اگر ان کے بعض اعتراضات میں صرف الزامی جواب دیا جاوے تو کیا آپ اس طریق کو پسند فرماویں گے؟ کیونکہ بعض اعتراض بہت ہی لاجواب ہوتے ہیں۔تو فرمایابڑی ہی بے انصافی ہوگی اگر ایک بات جس کو انسان خود نہیں مانتا دوسرے کو منوانے کے واسطے تیار ہو۔حل مشکلات ہاں اگر کوئی ایسا ہی مشکل سوال اگر آپ کے راہ میں آجاوے جس کا جواب ہرگز آپ کی سمجھ میں نہ آسکتا ہو تو اس کے واسطے یہ راہ مناسب ہے کہ اس کے جواب کے لئے آپ اس سوال کو نہایت ہی خوشخط اور جلی قلم سے لکھ کر اپنی اکثر اوقات نشست گاہ کے سامنے جہاں ہمیشہ نظر پڑتی رہے لٹکا دیا کریں۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ پر اپنے خاص فضل سے وہ فیضان نازل فرمائے جس سے کسی بھی اسلامی صداقت کے متعلق آپ کو کوئی مشکل پیش آئی ہو۔غرض اس طریق دعا کا میں کم وبیش پہلے ہی سے قائل تھا آج مجھے اس کی مضبوط چٹان پر حضرت اقدسؑ نے کھڑا کر دیا۔یہ بہت پرانی بات ہے۔پھر آپ کو میں کیا سناؤں کہ مجھے کس طرح سے اس مجاہدہ کرنے کے سامان میسر آگئے۔جس کی تفصیل یہ ہے کہ میرا ایک ہم مکتب حافظ عیسائی ہو چلا اور اس نے عیسائیت کے متعلق مجھ سے مباحثہ کیا اور پھر مجھے باوجود کثرت کاروبار کس طرح فرصت مل گئی اور اس کتاب کے چھپنے کے لئے کس قدر مال مجھے ایسی جگہ سے مل گیا جہاں میرا وہم وگماں بھی نہ تھا۔اس کتاب کے چار جلد تھے نام اس کا فصل الخطاب تھا۔خدا کی شان کہ صرف دو ہی جلد کے شائع ہونے پر میرے اس ہم مکتب حافظ دوست اور اور بھی جو اس کے ساتھ شریک تھے اور بعض ججوں نے مجھے میری کامیابی پر مبارکباد دی اور خدا تعالیٰ نے میری اس محنت کو محض اپنے فضل سے قبول فرمایا۔یہ میری پہلی ہی تصنیف تھی جس کے لکھنے کے لئے مرزا صاحب نے مجاہدہ کا حکم دیا تھا۔اس بیج کا جو درخت بن سکتا ہے اب آپ اس کو سمجھ سکیں گے اور اگر نہ سمجھ سکیں تو پھر کبھی اگر چاہیں تو مجھے اطلاع دیں۔(الحکم جلد۱۲ نمبر۲۹ مورخہ ۲۲؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۲،۳)