ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 362 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 362

پہلے دونوں دوروں میں حل نہ ہوئے تھے اس دفعہ حل ہوجاویں گے۔اس دور کی الگ ایک نوٹبک تیار کرے۔چوتھا دور۔دور ثالث کے بعد چوتھا دور عام مجمع کے سامنے شروع کرے مگر سامعین مسلمان ہوں۔ان کے اعتراضات وغیرہ کے اگر جواب آتے ہوں تو دیتا جاوے ورنہ نوٹ بک میں نوٹ کرتا جاوے اور ان کے حل کے واسطے اللہ تعالیٰ کے حضور درد دل سے دُعائیں کرتا رہے۔پانچواں دور۔اور پانچواں دور شروع کردے اور بلاامتیاز مسلمان و مشرک کافر و مومن سنانا شروع کردے۔اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور فیضان اس کے شامل حال ہوگا اور ایک بہت بڑا حِصّہ قرآن شریف کا اسے سکھا دیا جاوے گا اور باریک در باریک حقائق و معارف اور اسرار کلام ربّانی اس پر کھولے جاویں گے۔غرض یہ ہمارا مجرب اور آزمودہ طریقہ ہے۔پس جس کو قرآن سے محبت اور علوم قرآن سیکھنے کی پیاس اور سچی تڑپ ہو وہ اس پر کاربند ہوکر دیکھ لے۔فقط۔( الحکم جلد۱۲ نمبر۳۳ مورخہ ۳۰؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ۱) جن اور شہاب ثاقب (فرمودہ ۲۱؍مارچ ۱۹۰۸ء بعد نماز فجر) فرمایا۔میں اس وقت کسی وعظ کے واسطے نہیں کھڑا ہوابلکہ ایک شخص کا سوال تھا جس کے جواب میں میں بیٹھا بیٹھا ہی گفتگو کررہا تھا مگر بعض دوستوں کے ارشاد کی تعمیل کے واسطے کھڑا ہوگیا ہوں۔قاعدہ کی بات ہے کہ جب کسی کو کسی سے محبت ہوتی ہے اور سچی محبت ہوتی ہے تو انسان اپنے محبوب کی بات سننے کا بہت ہی شوق رکھتا ہے اور دل میں ہوتا ہے کہ خدا جانے اس کے منہ سے کیا اچھا مضمون یا دلآویز نصیحت یا کوئی مفید کلام نکلے گا۔لہٰذا یہ اپنے محبوب کی باتوں کو سننے کے واسطے بہت کوشش کرتا ہے۔یہی وجہ اب اس وقت ہمارے کھڑے ہوکر تقریر کرنے کی