ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 352 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 352

دو پہلو ہیں اور دونوں صحیح معلوم ہوتے ہیں اس واسطے ہر مجتہد ماجور ہے۔البتہ ایسے مسائل بھی ہیں۔جن میں نص بعض آئمہ کے پاس ہوتی ہے۔اور دوسرا صرف ضرورت پر قیاس کرتا ہے کیوںکہ اس کو نص نہیں ملی۔ایسی صورت میں ہم کو اگر نص صحیح مل جاوے تو نص پر عمل کر لیں اور اس مجتہد کا قول چھوڑ دیں۔اور اس مجتہد کو معذور یقین کریں کہ یا اسے نص نہیں پہنچی یا صحیح طریق سے نہیں پہنچی۔پھر جس ملک میں صلحاء کی کتب صحیحہ آسانی سے مل جاویں اس کو غنیمت سمجھیں۔۸۔امام ابو حنیفہ، امام مالک ، امام ابو یوسف، امام محمد، امام شافعی، امام احمد،یہ بڑے عظیم الشان لوگ ہیں ان کو کسی بادشاہ نے امام نہیں بنایا اور نہ کسی وقت کسی نے کہا کہ ان کے مذاہب پر چلو۔قدرت اللہ تعالیٰ نے خو د ایسے اسباب مہیا کردیئے کہ ان کے مذاہب مشہور ہوگئے۔اسحٰق بن راہویہ، داؤد الظاہری، ابن جریراور اوزاعی وغیرہ ائمہ بھی ہوئے مگر ان کے مذہب آہستہ آہستہ گم ہو گئے۔پھر بعض مسائل میں حق دائر ہے اور بعض میں سب حق پر ہیں۔چار صدی ہجرت کے بعد کچھ ایسے مقدمات ہوئے جن سے چار مصلّوں کی بناء پڑی۔۹۔لَااَرَاکُمْ فَاعِلِیْنَ (مسند احمد بن حنبل مسند الخلفاء الراشدین حدیث نمبر ۸۵۹)۔اس لیے فرمایا کہ آپ کو معلوم تھا کہ علیؓ کی خلافت ظاہراً بلا فصل نہ ہوگی۔اَلذَّبْحُ بَیْنَ الْخَلْقِ وَاللعبتکی حدیث مجھے ہر گز نہیں ملی۔آپ نے کہاں دیکھی ہے۔ہاں قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَمَا تَکُوْنُ الزَّکٰوۃُ اِلَّا فِی الْخَلْقِ وَاللَّبَّۃِ۔قَالَ لَوْ طَعَنْتُ فِیْ فَخَذِھَا لَاَجْزَاَ عَنْکَ۔قَالَ یَزِیْدٌ بْنُ ہَارُوْنَ ھٰذَا فِی الضَّرُوْرَۃِ قَالَ اَبُوْعِیْسٰی ہٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ الا دھر۔اِلَّا مِنْ حَدِیْثِ ضِحَاد بن سلمہ۔وَلَا تَفرف لابی العشراء عن ابیہ غیر ہذا الحدیث صفحہ ۲۸۰ ترمذی طبع مصر۔نور الدین دوسرا خط جناب من! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔بجواب استفتاء عرض ہے۔(یہ کسی شیعہ کا ہے)