ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 351
وہ برائیاں دور کردیں۔اس آیت کریمہ کو حضرت مسیح علیہ السلام کے قصہ نے کھول دیا ہے۔جہاں فرمایا۔(اٰل عمران:۵۶) حضرت مسیح کو شریروں سیہ کاروں نے ولد الزنا کہا۔لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ اور مریم صدیقہ کو بہتان لگائے۔اللہ تعالیٰ نے وہ الزام حضرت نبی کریم کے ذریعہ اور خود مسیح علیہ السلام کے اعجازوں سے دور کر دئیے چونکہ بیبیوں کے باعث ان کے رشتہ دار بھی اکثر اسلام کے گرویدہ ہو گئے اور اہل کا لفظ عموم کو شامل ہے۔اس لیے کنّ کا لفظ استعمال نہیں فرمایا ہے۔۲۔میرے علم میں یہی ہے کہ جس جنت میں آدم ؑ تھے وہ جنت دنیا میں ہی تھا۔۳۔اونٹ کی گردن مشکل سے ذبح کی جاتی ہے اور کھڑے کھڑے اس کے نحر میں گھوپ دیں تو جلدی اور آسانی سے جانور کی جان نکل جاتی ہے۔تیز سیدھی تلوار یا برچھی نحر میں چبھو دیتے ہیں۔۴۔پاؤں قبلہ کی طرف کر کے سونا تعظیم قبلہ کے خلاف ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (الحج: ۳۳) اور تعامل اسلام میں ہم کسی کو نہیں پاتے کہ قبلہ کی طرف پاؤں کرے۔۵۔میرا اپنا اعتقاد یہ ہے کہ حضرت فاطمۃ الزہرا بتول نے یہ دعویٰ صرف امتحان ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے کیا تھا کہ میرے والد کے قائمقام ہو کر لحاظ داری کرتا ہے یا نہیں۔جب آپ نے لحاظ نہ کیا تو غضب کر کے ڈرایا۔جب اس پر پکے رہے تو دعویٰ کا ذکر ہی ترک کر دیا۔۶۔مذاہب اربعہ عقائد میں قریباً سب کے سب ایک ہی ہیں۔سب اللہ پر، اللہ کے صفات پر، اللہ کے افعال پر، ایمان میں متحد ہیں۔اللہ کے عبادات اور صفات میں شریک نہ کرنے پر متفق ہیں۔۷۔نمازیں پانچ ان کے رکعات اور سنن میں اتفاق۔روزوں، زکوٰۃ اور حج کے ضروری امور میں ان کا اتحاد ہے۔بہت تھوڑا اختلاف آئمہ میں ہے۔سو وہ بھی دو قسم کا ہے۔یا تو ایسے مسائل کہ اس میں نص نہیں۔اس واسطے ہر مجتہد مصیب اور اجر پانے والا ہے یا نص کے معانی میں