ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 350
کرو۔کہا۔لکڑیوں کا گٹھا باہر سے لاؤں۔روز بیچ کر کھاؤں۔اس پر کچھ ایسا اثر ہوا کہ کہنے لگا آپ کو دس ہزار تک اگر ضرورت ہو تو مجھ سے بلا سود لے لیں۔(البدر جلد۷ نمبر ۵ مورخہ۶ ؍فروری۱۹۰۸ء صفحہ ۶) دوخطوں کے جواب حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں دو خط آئے تھے جن میں کچھ استفسار تھے۔حضرت مولوی صاحب نے ان کے جواب لکھے ہیں جو فائدہ عام کے واسطے درج اخبارکئے جاتے ہیں۔چونکہ خط لکھنے والے صاحبان کے ایڈریس محفوظ نہیں رہے اس واسطے گزارش ہے کہ وہ صاحبان بھی اخبار میں ہی جواب پڑھ لیویں۔( ایڈیٹر البدر) پہلا خط آج آپ کا کرم نامہ لے کر بیٹھا ہوں (رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا) ۱۔(الاحزاب: ۳۴) کی آیت کریمہ میں ماقبل اور ما بعد سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت کریمہ میں بیبیاں مراد ہیں۔سو بعض بیبیاں تو پہلے یہود تھیں جیسے حضرت صفیہؓ اور بعض مسیحی تھیں جیسے حضرت ماریہؓ اور بعض مشرکہ تھیں جیسے جویریہ ؓ۔اس پر ظاہری کفر کی نجاست دور ہو گئی اور وہ اللہ کے فضل سے امہات المومنین بن گئیں۔اور روایات صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب علی مرتضیٰ اور بتول زہراء اور حسنین بھی داخل ہیں سو ان کا ازالہ رجس اور تطہیر مع اور حضرات امہات المومنین کے اس طرح ہوا جو تہمتیں اور برائیاں ان کی نسبت روافض اور خوارج نے اور جو کچھ مورخوں اور قصہ خوانوں نے تہمتیں لگائیں۔مثلاً شیعہ نے تہمت لگائی کہ مولیٰ علی خلافت چاہتے تھے اور امام حسین خلافت کے لیے لڑے۔عائشہ و حفصہ بری عورتیں (مَعَاذَ اللّٰہ وَ حَاشَ لِلّٰہ) سو اللہ تعالیٰ نے سب کے الزام قرآن و نبی کریم کی زبان سے دور کرادیے اور ہمیشہ مجددوں اور ائمہ اور اولیاء کے ذرائع سے