ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 348 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 348

۳۔اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ اعتقاد پختہ ہو جائے گا کہ وہ خدا کا محتاج ہے اور ہر آن میں محتاج ہے۔خدائی کے مرتبہ پر نہیں پہنچا اور نہ پہنچے گا بلکہ عبد کا عبد ہی ہے اور عبد ہی رہے گا اور رہے گا اور خدا تعالیٰ کا فیضان ان پر ہمیشہ ہوتا رہتا ہے اور ہوتا رہے گا۔۴۔درود شریف کے پڑھنے والا اس ذریعہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس ترقی میں شریک رہے گا۔آنحضرتؐ کے تمام انبیاء سے بڑھ کر ہونے کا ثبوت باقی رہا عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ تو اس کا یہ جواب ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم کی آل میں بھی داخل ہیں اور صلوٰۃ بھیجنے والا چاہتا ہے کہ جس قدر برکات اور انعاماتِ الٰہیہ حضرت ابراہیم اور اس کی اولاد پر ہوئے ہیں ان سب کا مجموعہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہو۔اس سے یہ توثابت نہیں ہو سکتا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم سے کمتر درجہ پر ہیں بلکہ اس سے تو ان کے اعلیٰ مدارج کا پتہ لگتا ہے چونکہ درود شریف پڑھنا ایک نیک کام ہے اور یہ ایک حکم ہے کہ جو کوئی نیکی سکھاتا ہے تو اس کو بھی اسی قدر ثواب پہنچتا ہے جس قدر کہ سیکھ کر عمل کرنے والے کو۔اس لئے دنیا میں جس قدر لوگ نمازیں پڑھتے ہیں اور عبادتیں کرتے ہیں ان سب کا ثواب ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پہنچتا رہتا ہے اور ہر وقت پہنچتا رہتا ہے کیونکہ زمین گول ہے۔اگر ایک جگہ فجر ہے تو دوسری جگہ عشاء ہے۔ایک جگہ اگر عشاء ہے تو دوسری جگہ شام ہے۔ایسے ہی اگر ایک جگہ ظہر کا وقت ہے تو دوسری جگہ عصر کا ہوگا۔غرض ہر گھڑی اور ہر وقت ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو ثواب پہنچتا رہتا ہے۔دنیا میں کروڑدر کروڑ رکوع اور سجدہ کرتے اور درود پڑھتے اور دوسری دعائیں مانگتے ہیں اور پھر اس کے علاوہ دوسرے احکام پر چلتے روزے رکھتے زکوٰتیں ادا کرتے ہیں۔اس لئے ماننا پڑے گا کہ ہر آن میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان عبادات کا ثواب پہنچتا رہتا ہے کیونکہ اسی نے تو یہ باتیں سکھائی ہیں کہ تم لوگ نمازیں پڑھو زکوٰتیں دو اور مجھ پر درود بھیجو اور پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم