ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 308 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 308

ظاہر ہے اور اس یقین کے بعد کہ نجات تقویٰ سے ہے۔حکم ہے کہ تقویٰ ان امور کی پابندی کا نام۔تو آپ کا وہ قاعدہ ٹوٹ جاتا ہے۔(البقرۃ:۱۷۸) اس آیت کریمہ کے درمیان تقویٰ کے چند اصول بیان ہوئے ہیں جن میں شاید مرزا کا بھی کہیں ذکر آیا ہو اور دوسری آیت (مریم:۷۳) ظاہر کرتی کہ مدارِ نجات تقویٰ ہے۔لاانتہاء قوانین نجات کے لئے نہیں۔پھر مر کر نجات کا مسئلہ تو ہمیں صر ف انبیاء کے ذریعہ ہی معلوم ہو سکتا تھا اوراس کا دوسرا کوئی راستہ نہیں اور دنیا میں نجات بخلاف آپ کے منشاء کے بہت ہی کم لوگوں میں نظر آتی ہے۔آپ اپنا ہی حال دیکھیں۔بڑی محنتوں کے بعد تو آپ ڈاکٹر اور مصنف کتب اور صاحب اولاد ہوئے مگر بیوی بچوں اور ریاست والوں سے نجات ملی یا نہ ملی۔آپ کا دل ہی جانتا ہوگا۔میں اس پہلے حصہ سے ایک حد تک جواب دینے سے سبکدوش ہوا ہوں اگر یہ حصہ آپ کے لئے کچھ بھی مفید ہوا تو اس تفصیل کو بھی تیار ہوں اور باقی حصوں کے جواب دینے کو تیار ہوںگا۔اور اگر اس حصہ کے متعلق بھی مجھے یہی سنانا ہو کہ میں دودھ مانگتا ہوں اور مجھے زہر پلایا جاتا ہے میں قریب ہوتا ہوں اور مجھے دور کیا جاتا ہے اور اپنا بنتا ہوں اور مجھے اجنبی کہا جاتا ہے تو میں مصلحت نہیں سمجھتا کہ باقی حصوں کا جواب دوں یا اس کو اور زیادہ کروں۔اگر امام صاحب کے حضور شوخی کرنے سے پہلے مجھے براہ راست آپ خط و کتابت کرتے تو