ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 307
سنیے! قرآن شریف نے ایمان بالآخرت کے لوازمات بیان کئے ہیں اور ان لوازمات نے مدار نجات کو اور بھی بہت تنگ کردیا ہے اور وہ آیت یہ ہے(الانعام :۹۳)۔یہاں ایمان بالآخرت کو ملزوم بنایا ہے اور ایمان بالقرآن اور محافظت علی الصلوٰۃ کو لازم قرار دیا … اور یہ تو آپ کی فطرت کہتی ہو گی کہ لازم و ملزوم جدا نہیں ہو تے ہوںگے۔آپ نے قتل عمد کی سزا کہیں قرآن شریف میں دیکھی ہوگی اگر یاد نہ ہو تو میں اسی خط میں یاد دلا دیتا ہوں۔(النساء :۹۴) پھر ایک اور آیت ہے جو چھٹے سپارہ کے ابتداء میں ہے۔ (النساء:۱۵۱،۱۵۲) اس کو آپ ملاحظہ فرماویں۔آپ تو ابھی میرے روحانی فرزند ہیں اور مسیح کو مسیح و مہدی بھی مانتے ہیں۔اگر (البقرۃ :۳۵) کا کوئی مادہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ میں نہ ہو تو جو قاعدہ نجات کا آپ نے لکھا ہے۔اس کی غلطی اتنے میرے بیان سے بھی ظاہر ہوسکتی ہے اور اگر ہٹ کے اسباب بہت ہیں اور اب آپ مخالفت کا اظہار کرچکے ہیں اور … الخ (ھود:۱۱۴) کی بھی پرواہ نہ کی۔تو زیادہ مباحثات سے بھی کام نہیں نکلتا۔نجات فضل سے ہے اور وہی مدار نجات ہے اور اس فضل کا جاذب تقویٰ ہے اور اس تقویٰ کا بیان(البقرۃ :۱۷۸) میں ہے۔آپ اس پر غور کریں کیونکہ تقویٰ سے نجات کا ہونا تو آیت کریمہ (الزمر: ۶۲) اور (مریم:۷۳)سے