ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 305
کی آیت سے مجرم اور مجرم کے ساتھ محل انتقام تجویز فرمایا اور اپنے اس اصول کو غیظ و غضب کے باعث بھول گئے کہ اور اس کی رحمت و مغفرت کے لاانتہاء قوانین مرزا اور مرزائیوں کونجات نہیں دے سکتے۔اس سے بڑھ کر ڈاکٹر عبد الحکیم خان کا کیا شرک ہو سکتا ہے کہ اس کے کہنے کی خلاف ورزی سے مرزا اور مرزائیوں سے انتقام لیا جائے اور تمام انبیاء کی خلاف ورزی سے انتقام نہ ہو اور وہ مدار نجات نہ ہوں۔پھر آپ نے اس وسیع دائرہ نجات کو تنگ کر دیا اور یہ کہاہے کہ توحید،ایمان بالیوم الآخر اور اعمال صالحہ مدار نجات آخرت ہیں۔رب العالمین کے لاانتہاء قوانین مغفرت کو ہم ایک طرف رکھیں تو کیسا تعجب آتاہے پر معلوم ایسا ہوتا ہے کہ شاید مسلمانوں کو ملزم کرنے کے لئے آپ نے یہ لکھ دیا ہے۔پھر آپ نے آگے چل کر دائرہ نجات کو وسیع بھی کیا ہے اور تنگ بھی کر دیا ہے جہاں یہ لکھا ہے کہ(النساء : ۱۱۷)۔حکیم اور خان اور پھر ڈاکٹر صاحب شرک معاف نہ ہو یہ کیا بات ہے کیا اس کے لا انتہاء قوانین نجات میں مشرک کی نجات کا کوئی قانون نہ ہو بلکہ ضرور ہونا چاہئے کیونکہ وہ (الفاتحۃ:۲،۳) ہے۔ایک انسان نے اگر ایسا کہا ہے تو آپ کے نزدیک اس کا کہنا چیز ہی کیا ہے اور وہ مدار نجات کب ہے جیسا کہ تم نے کہا۔پھر خدا کا منکر تو مشرک بھی نہیں اس کے لئے تو نجات کا دروازہ آپ کے نزدیک بند ہو ہی نہیں سکتا۔پھر آپ نے تیرہ کروڑ مسلمان پر رحم فرمایا ہے اور ذکر کیا ہے کہ تیرہ سو سال میں یہ تیرہ کروڑ مسلمان تیار ہوئے ہیں سب کو نجات حاصل کر نا چاہئے۔حکیم و ڈاکٹر صاحب دوا رب اللہ کے بندے اس وقت موجود ہیں۔تیرہ کروڑ اگر محمد رسول اللہ ﷺ کے باعث تیار ہوئے ہیں تو دو ارب اللہ کی مخلوق اور ڈارون کے طریق سے لاکھوں برس اور معلوم نہیں کہ کب سے وہ تیار ہوئے ہیں ان سب نے اگر نجات نہ پائی تو تیرہ کروڑ چیز ہی کیا ہے اور ایک آیت