ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 290
عالم الغیب سے اور راز رکھتا ہے۔اللہ علیم نے فرمایا ہے (الجن : ۲۷، ۲۸) لیکن سب غیبوں کا جاننا اللہ تعالیٰ سے خاص ہے یہی وجہ ہے کہ ارشاد ہوتا ہے۔ (الأَعراف : ۱۸۹)۔چہارم۔یہ کہ نصرت الٰہی اور تائید الٰہی اس کے اور اس کے اتباع کے شامل حال رہے تاکہ ثابت ہو جاوے کہ بیشک اللہ قدیر اس کی مدد پر ہے خدا وند کریم نے فرمایا ہے (المؤمن : ۵۲) وغیرہ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت اور تائید کی پھر ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ کی کی۔پنجم۔یہ کہ اس نصرت کی پیشگوئی قبل از وقت بلکہ ضعف کی حالت میں کی جاتی ہے تاکہ اللہ کا علم اور فعل اس کی صداقت کے دو شاہد ہوں (النّسآء : ۸۰) جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پہلے سے فرما دیا تھا (المجادلۃ :۲۲) اور (القمر : ۴۶) اور(الأنبیآء : ۴۵)۔ششم۔یہ کہ اس کے مکذّبین پر عذابِ الٰہی نازل ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا (صٓ : ۱۵)۔ہفتم۔یہ کہ وہ ضرورتِ حقہ کے وقت مبعوث ہوتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی ضرورت حقہ کا نقشہ قرآن مجید نے (الرّوم :۴۲) کے ساتھ فرمایا ہے۔ہشتم۔یہ کہ اس وقت کے مطابق ان کو آیات دئیے جائیں جیسا حضرت موسیٰ کے لئے (بنی اسرائیل : ۱۰۲) فرمایا۔