ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 269
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم بحضور فیض گنجور مسیح موعود و مہدی مسعود امام آخر الزمان علیہ الصلوٰۃ و السلام۔دَامَ ظِلُّکُمْ۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔گذارش ہے کہ زید کا بو جہ دوسری شادی کرنے کے مسماۃ اندان زو جہ خود کے ساتھ تنازعہ رہا کرتا تھا زید کے برادران و مسماۃ اندان کے رشتہ داران کے رفع فساد کے لئے زید کو مجبور کیا کہ زو جہ خود یعنی مسماۃ اندان کو طلاق دے دے۔چنانچہ نامبردہ نے طلاق نامہ تحریرکردیا جس کی نقل حضور والا کی خدمت میں پیش ہے بعد طلاق دینے مسمیٰ زید اپنی والدہ اور اپنے برادران وغیرہ سے بہت دفعہ یہی کہتا رہا کہ مجھ کو تنگ کیا گیا جو طلاق دے دیا گیا۔اب زید کی زو جہ کا انتقال ہوچکا اس لئے زید چاہتا ہے کہ میں اپنی زو جہ مسماۃ اندان کو پھر اپنے گھر آباد کر لوں۔طلاق سے بعد آج تک جس کو عرصہ چار سال دس ماہ گیارہ یوم کا ہوا۔زید نے اپنی عورت مطلقہ کے ساتھ کچھ تعلق نہیں رکھا۔اب حضور کی خدمت میں یہ معاملہ پیش کر کے التماس ہے کہ ایسی حالت میں کیا زید اپنی عورت مسماۃ اندان کو اپنے گھر میں آباد کر سکتا ہے زید کا دلی منشاء طلاق دینے کا نہیں تھا رفع فساد کے لئے اس کے برادران نے اس کو مجبور کیا تھا۔زید کے برادران و ہمشیر گان اس امر کے گواہ ہیں کہ واقعی زید نے برادران کے مجبور کرنے سے ہی طلاق دیا تھا۔مسماۃ اندان بھی اپنے خاوند زید کے گھر جانے میں رضا مند ہے۔اصل سوال مع جواب نیازمند کے پاس ارسال فرماویں۔الراقم عبد الغنی خان افسر فراشخانہ پٹیالہ سیکرٹری انجمن احمدیہ قصبہ سنور منکہ زید ابن بکر ساکن افضل نگر کاہوں جو کہ مسماۃ اندان بنت عمر سکنہ افضل نگر زو جہ ام نے خواہش کی کہ مجھ کو طلاق دے چنانچہ حسب خواہش اس کے میں نے مہر اس کا مبلغ روپیہ (بتیس روپے دو آنے) دے کر طلاق حسب طریق شرعی دے دیا۔اب اس کا حق و دعویٰ مجھ پر کچھ نہیں اور نہ اس پر کچھ ہے۔زیور و پارچات ہر قسم میں نے اس کے لے لئے ہیں۔ایک