ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 267
میاں سراج الدین صاحب احمدی تحصیل علی پور ضلع مظفر نگر السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۱۔جنازہ قبل از ادائے فرض مغرب جائز ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین وقت میں جن میں نماز جنازہ پڑھنا منع فرمایا ہے اور ان میں اس کو داخل نہیں کیا۔دیکھو نسائی شریف کتاب المواقیت باب النھی عن الصلوٰ ۃ نصف النہار۔اس میں یہ حدیث لکھی ہے ثَلَاثُ اَوْقَاتٍ کَانَ یَنْھَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ اَنْ نُصَلِّیَ فِیْھِنَّ اَوْ نَقْبُرَ فِیْھِنَّ مَوْتَانَا حِیْنَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَۃً حَتّٰی تَرْتَفِعَ حِیْنَ یَقُوْمُ قَائِمُ الظَّھِیْرَۃِ حَتّٰی تَمِیْلَ وَ حِیْنَ تَضَیَّفُ لِلْغُرُوْبِ حَتّٰی تَغْرُبَ جلد اوّل صفحہ ۹۵ مطبوعہ مصر۔۲۔کتنے صحابہ کا عمل ہے کہ دو رکعت۔فرضِ مغرب سے پہلے پڑھ لیتے تھے بلکہ تا خیر مغرب حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے نسائی جلد اوّل صفحہ۹۷ بَابُ الرُّخْصَۃِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ۔ھٰذَہٖ صَلٰوۃٌ کُنَّا نُصَلِّیْھَا عَلٰی (عَھْدِ) رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلْعَمْ اور اسی کتاب کے باب آخر وقت مغرب صفحہ۹۰ میں تاخیر مغرب لکھا ہے۔۳۔میت کے ہاتھ میں کچھ لکھ کر دینا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔۴۔الصلٰوۃ سنۃ رسول اللہ اذان کے بعد کہنا محدثات سے ہے صحابہ تابعین اور تبع تابعین سے ہرگز ثابت نہیں۔۵۔حضرت عثمانؓ کی اذان وہ ہے جو خطبہ کے وقت نہیں کہی جاتی بلکہ اعلان کے لئے اب پہلے دی جاتی ہے۔نسائی جلد اوّل ص۲۰۷میں لکھا ہے باب الاذان للجمعۃ۔۶۔بَابُ مَقَامِ الْاِمَامِ فِی الْخُطْبَۃِ میں منبر کے متعلق لکھا ہے جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ اِذَا خَطَبَ یَسْتَنِدُ اِلٰی جِذْعٍ نَخْلَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ فَلَمَّا وُضِعَ الْمِنْبَرُ وَاسْتَوَیٰ عَلَیْہِ اور آپ ہمیشہ خطبہ پڑھا کرتے تھے۔خطبہ میں بیٹھنا نسائی بَابُ کَمْ یَخْطَبُ النَّبِیُّ میں لکھا ہے عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمْرَۃَ قَالَ