ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 243 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 243

ہمیں ثابت نہیں قبرستان کو مسجد بنانا یا وقف کے خلاف ورزی کرنا تو ممنوع ہے مگر اس میں بھی غور طلب یہ امر ہے کہ مسجد نبوی بھی جس مقام پر بنائی گئی ہے وہ بھی قبرستان تھا۔مصرف زکوٰۃ میں مسجد کا بنانا ہرگز نہیںہو سکتا۔لَا تَصْرِفِ الزَّکٰوۃَ اِلٰی بِنَائِ الْمَسْجِدِ وَ قَنْطَرَۃِ وَاِصْلَاحِ طُرُقِ وَ نَحْوَ ھَا ( عینی شرح کنز )۔قرآن کریم ، احادیث صحیحہ اور آثار سے بھی ثابت نہیں ہوتا کہ زکوٰۃ سے مسجدیں بنائی گئی ہوں۔(۲) سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں جو یہود پر دو وعدے کے وقت آئے وہ کب آئے تھے اور مسلمانوں پر کب ؟ الجواب۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ بیشک بنی اسرائیل کی طرح مسلمانوں پر بھی یہ دو خطرناک وقت آئیں گے بنی اسرائیل پر پہلی آفت حضرت دائود و سلیمان کے عہد سلطنت کے بعد میں پڑی جبکہ بابل کے بادشاہ اور مشرق کے لوگ ان کو قید کر کے لے گئے۔مسلمانوں پر یہ تباہی کا وقت عباسیوں کی سلطنت میں آیا جبکہ ہلاکو اور اس کی قوم نے ان کی سلطنت کو بیخ سے کاٹ ڈالا۔یہ تو (بنی اسرائیل : ۶) کی تفسیر ہوئی دوسری دفعہ بنی اسرائیل پر مسیح کے وقت میں بڑی تباہی آئی جو مسیح کی مخالفت کا نتیجہ تھا اور آپ کی مخالفت ہی اس کا باعث ہوئی۔مسلمانوںکے لئے بھی یہ دونوں وقت سخت خطرہ کے ہیں ایک وقت تو ان پر عباسیوں کے عہد میں آ چکا ہے اب دوسرا وقت جو مسیح موعود کی مخالفت کا نتیجہ ہو گا وہ اس کی پوری مخالفت پر موقوف تھاجس کا زمانہ مسیح موسوی کی طرح اس کے بعد اپنی مخالفت کا مزہ چکھاوے گا یہ وہ زمانے جو مسلمانوں پر آنے تھے ایک زمانہ ہم پر پہلے دیکھ چکے ہیں اور دوسرا آ رہا ہے پھر جس طرح بنی اسرائیل پر مختلف تباہیاں آئی ہیں ایسے ہی مسلمانوں کو مختلف تباہیاں ان الفاظ میں بتائی گئی ہیں خسف بالمشرق خسف بالمغرب و خسف فی جزیرۃ العرب اسی وعدہ کے مطابق مشرق میں