ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 242
والی ہوں لیکن اگر شروع ہی سے ہم ان کے دل میں اپنے لئے بغض پیدا کرلیں گے تو وہ دعائیں کرنے والی ہوں گی یا بددعا کرنے والی۔(۸) میری اور میرے بھائی بہنوں کی تربیت کبھی اس رنگ سے نہیں ہوئی۔میرے والدین ہم سب پر اور مجھ پر بہت ہی بڑی عنایت اور شفقت کیا کرتے تھے۔ہماری تعلیم کے لئے وہ کبھی بڑے سے بڑے خرچ کے لئے بھی آزردہ خاطر نہ ہوتے تھے بلکہ بڑی خوشی سے ادا کرتے تھے۔میں نے کبھی اپنے والد یا والدہ ماجدہ سے کوئی گالی بچوں کو نہیں سنی بلکہ والدہ صاحبہ جن سے ہزاروں لڑکیوں اور لڑکوں نے قرآن شریف پڑھا ہے وہ اگر کسی کو گالی دیتی تھیں تو وہ یہ گالی دیتی تھیں محروم نہ جاویں۔(۹) جب ہم خود (باوجودیکہ اس قدر عمر ہوگئی ہے اور بہت کچھ پڑھا اور پڑھایا ہے) بھی غلطی کر بیٹھتے ہیں تو جن کو کچھ بھی واقفیت اور علم نہیں اگر غلطی کر بیٹھیں تو اس پر اس قدر غصہ اور غضب کیوں ہو۔(۱۰) غلطیوں اور فروگزاشتوں پر دعا کرنی چاہئے۔حضرت اقدس علیہ السلام گھر میں ایک دفعہ فرمارہے تھے کہ لوگ جو کسی پر ناراض ہوتے ہیں مجھے حیرت ہے کیوں ناراض ہوتے ہیں کیا انہوں نے اس کے واسطے چالیس دن رو کر دعا بھی کی ہے اگر چالیس دن رو کر دعا کرے اورپھر بھی اس کی اصلاح نہ ہو تو البتہ اسے ناراض ہونے کا موقعہ ہے۔استفسار اور ان کے جواب (۱) قبرستان کے لئے جو زمین وقف کی جاوے اس میں اگر کوئی شخص مسجد بناوے اور پھر اس مسجد کو پیچھے کی جانب محراب ومنبر وغیرہ توڑ کر مال زکوٰۃسے بنا سکتا ہے یا نہیں ؟ الجواب۔مسجد کو پیچھے کی جانب یعنی قبلہ رخ بڑھانے کی ممانعت شرع اسلام سے ثابت نہیں بلکہ مسجد مکہ اور مسجد نبوی بھی ہر طرف سے بڑھائی گئی ہے۔منبر محراب توڑنے کی ممانعت بھی