ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 241 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 241

تربیت اولاد پر طریق عمل ۲۹؍اپریل ۱۹۰۵ء کو قریب شام مجھے حضرت حکیم الامت کے حضور شرف ملازمت حاصل تھا باتوں ہی باتوں میں اس بات پر ذکر آ گیا کہ آپ عبدالحي کو بہت آزاد کیوں رکھتے ہیں اور اس کو کبھی تنبیہ نہیں کرتے۔فرمایا۔میں اس کو مناسب تنبیہ تو کرتا ہوں اور ایسے طریق پر کہ اسے ذرا بھی ناگوار نہیں ہوتا اور وہ اصلاح کر لیتا ہے لیکن بچوں کو مارنا پیٹنا یہ میں بالکل نامناسب سمجھتا ہوں اور مندرجہ ذیل وجوہ ہیں جو میں اس کو کھلا چھوڑ دیتا ہوں۔(۱) آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے۔اَکْرِمُوْا اَوْلَادَکُمْ (سنن ابن ماجہ باب بر الولد والاحسان الی البنات حدیث نمبر ۳۶۷۱)یعنی اپنی اولاد کی تکریم کرو اس لئے اس حدیث پر عمل کرنا ضروری ہے۔(۲)صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت میں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے بچوں کو زدوکوب سے پرورش نہیں کیا۔(۳) پھر میں یہاں تک بھی پاتا ہوں کہ عہد رسالت میں بچوں کو ہر گز نہیںماراجاتاتھا۔(۴) جبکہ شریعت اور خدا تعالیٰ نے ان کو ابھی مکلف نہیںکیا تو ہم کون ہیں جومکلف کرسکیں۔(۵) عبدالحيا للہ تعالیٰ کی ایک آیت ہے حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ و السلام کی ایک پیشگوئی کے موافق پیدا ہے۔آیت اللہ کی بے حرمتی اچھی نہیں۔(۶) خود حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کو میں دیکھتا ہوں کہ وہ بچوں کو زجر و توبیخ نہیں کرتے۔میں نے خود سنا ہے کہ جب کبھی ام المومنین نے کسی بچہ کی کوئی شکایت کی ہے تو فرمایا ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ اس کی فطرت اس سے کیا کراتی ہے۔میں دعا کروں گا۔(۷) اولاد کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں کہ وہ نیک ہو تا کہ ہمارے لئے دعائیں کرنے