ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 235
تعویذ گنڈے بتا دیتا ہے کہ آخر کچھ تو ملے۔اسی طرح فاتحہ، تیجا روٹی کے ذرائع ہیں اس قوم کے لئے جو تباہ ہو گئی ہے اور ہو رہی ہے اور اس میں سے وحدت کی روح نکل گئی۔بوسے بزرگوں کے ہاتھ پر دینے کی ضرورت اس وقت ایجادہوئی جب پیروں میں حقیقی قوت نہ رہی۔جناب من !یاد رکھیں کہ اختلاف کی دو قسمیں ہیں۔ایک اختلاف تضاد اور دوسرا اختلاف انواع۔احادیث صحیحہ میں اور دلائل قویہ میںاختلاف انواع تو ہوتا ہے مگر اختلاف تضاد نہیں ہوا کرتا مثلاً کوئی نہیں دکھا سکتا کہ قرآن کریم میں ایک دفعہ تو حکم ہوا ہو کہ فلاں خاص کام ضرور کرو پھر دوسرے وقت کہا گیا ہو کہ فلاں کام ہرگز نہ کرنا۔عام طور پرا حادیث میں حکم ہو کہ فلاں کام ہر شخص ضرور کرے اور پھر کہا گیا ہو کہ کوئی بھی یہ کام نہ کرے۔اور یہ کیا اختلاف ہے کہ عشاء میں حضرت نبی کریم نے وَالشَّمْس اور وَالتِّیْنپڑھی اور ایک شخص روایت کرتا ہے کہ اِنَّا اَنْزَلْنَا اور وَالَّیْل پڑھی کیونکہ مسنون بار بار عشاء کی نماز پڑھی اور اس میں کبھی کبھی کوئی سورۃ پڑھی اور کبھی کوئی سورۃ۔جناب من! یہ طریق ہزاروں مسائل کو حل کر دیتا ہے۔اور بعض مسائل تو خواہ مخواہ لوگوں نے مسائل شرعیہ بنا لیے ہیں حالانکہ وہ ہرگز شرعی مسائل نہیں بلکہ یوں ہی غیر ضروری امور ہیں جن کو شَرْعًا نَفْیًا وَّ اِثْبَاتًا کوئی تعلق نہیں۔الجواب ۱۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یَکُوْنَا بِحَذْوَ مَنْکَبَیْہِ ثُمَّ یُکَبِّرُ فَاِذَا اَرَادَ اَنْ یَّرْکَعَ رَفَعَہُمَا مِثْلَ ذٰلِکَ وَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہٗ مِنَ الرَّکُوْعِ رَفَعَھُمَا کَذٰلِکَ۔وَقَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ۔متفق علیہ(بخاری و مسلم )فَمَازَالَتْ تِلْکَ صَلٰوتُہٗ حَتّٰی لَقِیَ اللّٰہُ۔اخرجہ البیہقی(معرفۃ السنن والاٰ ثار للبیھقی ، کتاب الصلٰوۃ باب تکبیرللرکوع وغیرہ)۔پس جواز رفع یدین میں کوئی کلام نہیں گو ابن مسعود سے عدم رفع بھی منقول ہے۔