ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 234 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 234

نور الدین ۵ ؍مارچ ۱۹۰۵ء السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ بجواب گرامی نامہ عرض ہے ان مسائل جزئیہ میں میری اپنی تحقیق یہ ہے کہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کا جو مجموعہ عمل و درآمد میں ضرور ہے مثلاً موطا بخاری اور زیادہ سے زیادہ صحیح مسلم اور ابو داؤد۔ایک مومن متقی کے لئے جیسی اس کی استعداد ہو سہل الحصول ہے۔اس سے زیادہ ایک ہوس ہے۔عملی حصہ میں اس کی ضرورت نہیں۔ہاں عقائد و اصول کی باتوں پر اور طریقہ سے توجہ کرنی چاہیے جو غالبًا بلکہ یقینا اسی قرآن کریم اور صحیحین بلکہ صحیح بخاری سے حاصل ہو سکتا ہے۔مکرم بندہ! ان مسائل جزئیہ میں علماء کا اختلاف ہے جن کو آپ نے دریافت فرمایا۔پس جو امر میرے نزدیک ان مسائل میں محقق ہے اس کو میں نے بیان کر دیا ہے۔اور ایسے مسائل میں زیادہ کدو کاوش کی ایک متقی عامل کو ضرورت نہیں۔ان مسائل میں سے مثلاً رفع یدین ہے روایۃً رفع یدین کرنا قوی ہے اس کے مقابل کے دلائل میرے نزدیک وہ قوت نہیں رکھتے جو رفع یدین کے دلائل بالمقابل شوکت رکھتے ہیں مگر مخالف دلائل ہیں ضرور ان کا انکار نہیں ہوسکتا۔ہاں الحمد شریف خلف الامام میں جیسے خصوصیت سے پڑھنا ثابت ہے نہ پڑھنا فاتحہ کا خصوصیت سے ثابت نہیں۔پس پڑھنا بڑی ترجیح رکھتا ہے اور نماز میں ہاتھ سینہ پر کی روایت صحیح ہے اور تحت سینہ کی ضعیف اور بعض مسائل تو ایسے ہیں کہ مخالفہ پر دلیل ہی نہیں۔مثلاً اذان عند الخطبہ امام کے سامنے چاہیے۔جمعہ کی شرائط۔بیعت خاندان ہائے خاصہ (چشتیہ ،سہروردیہ وغیرہ وغیرہ)اور بعض مسائل پر سوائے فطرت سلیمہ کون تمیز کر اوے۔مثلاً علماء میں قابل فتویٰ کون کون ہے۔بعض مسائل اس قسم کے ہیں کہ جب قوم میں تنزل و ادبار شروع ہوتا ہے اور ہر ایک فرد اپنی اپنی ابتلاؤں میں حیران و پریشان ہو جاتا ہے تو اَلْغَرِیْقُ یَتَشَبَّثُ بِکُلِّ حَشِیْشٍ۔کبھی بت پرستوں کے مزاروں کو حاجت روائی کا ذریعہ بناتا ہے اور کبھی حزبوں سیفیوںکو۔کہیں مریدوں کو