ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 230
آپ کو خودزٹلی کہتے ہیں آپ کے مقرب بنے ہوئے تھے۔اور مرزا کا مقابلہ ایسی طرح سے کیا جاتا تھا کہ جو آپ کے قومی فضل اور آپ کے شیخ نقشبندیہ اور روحانی تربیت کی طرف متوجہ ہونے والے کے بالکل خلاف نظر آتے تھے۔میں مانتا ہوں کہ مرزا کا کوئی دعویٰ آپ کو ناگوار ہویا نا گوار ہواہے مگر اہل اللہ کا مقابلہ اس طرح پرنہیں چاہیے تھا جس طرح آپ نے کیا ہے۔سب دل اللہ تعالیٰ کے فضل کے نیچے ہوتے ہیں۔والسلام نور الدین (الحکم جلد۹ نمبر ۷ مورخہ۲۴ ؍فروری ۱۹۰۵ء صفحہ ۴) ایک لطیف استفتاء اور اس کا جواب چند روز سے ایک نووارد نوجوان مولوی شمس الدین احمدسید مقبول حسین صاحب وصلؔ حنفی قادری رزاقی بلگرامی دارالامان میں وارد ہیں وہ اپنے وطن بلگرام (جو ایک مشہور اور مردم خیز قصبہ ہے) سے کسی تقریب پر دہلی تشریف لائے تھے۔وہاں سے آگرہ پہنچے اور میرے مخدوم و مکرم ڈاکٹر حافظ خلیفہ رشید الدین صاحب پروفیسر میڈیکل کالج آگرہ سے ان کی ملاقات ہوئی۔ڈاکٹر صاحب سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ایک رخشندہ گوہر ہیں۔انہوں نے آپ کو قادیان آنے کی تحریک کی چنانچہ سید صاحب امرتسر ہوتے ہوئے اور وہاں کے علماء سے ملتے ملاتے آخر قادیان پہنچے۔آپ نے چند اختلافی مسائل جزیہ حضرت حکیم الامت کے حضور لکھ کر بغرض جواب پیش کئے۔حضرت ممدوح نے ان مسائل کا جو جواب دیا وہ فائدہ عام کی خاطر ذیل میں مع اصل سوالات کے چھاپ دیتا ہوں۔سید صاحب کی یہ محنت الدَّالُ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہٖ (الادب المفرد باب الدال علی الخیر) کی مصداق ہے۔ایسے اجنبی اور سلسلہ سے الگ بہت کم لوگ یہاں آتے ہیں جو یہاں آکر حضرت اقدس ؑ یا بزرگان ملت سے استفادہ کرنے کی سعی کریں اور اپنے سفر کو وسعت معلومات اور تبادلہ خیالات کا صحیح ذریعہ قرار دیں بہرحال وہ دلچسپ خط و کتابت یہ ہے۔(ایڈیٹر الحکم)