ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 220 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 220

اور بت تو تم سے کمزور ہیں۔مثلاً آگ کی لوگ پرستش کرتے پھر آگ ہماری خادم ہے ضرورت کے وقت اس کو جلا تے اس سے کام لیتے اور جب چاہتے اس کو بجھا دیتے ہیں۔علیٰ ھٰذا القیاس۔پانی، مٹی، ہوا، سورج، چاند، لوہا ،پتھر یہ تو سب خادم ہیں۔پس شرک بتایا اس کے برے ہونے کی دلیل بتائی۔اسی طرح نبوت کا ثبوت دیا ہے۔شہد کی مکھی اور دودھ اور پھلوں وغیرہ کی دلیلیں ملاحظہ کرو۔پس قرآن میں ہر دعویٰ کی دلیل دی گئی ہے اور یہ ایک ایسا اعلیٰ درجہ کا اصل ہے کہ ہم نے کبھی ۱۳سو برس کی کتاب میں نہیں دیکھا۔۳۔کیا مرزا صاحب کے دعویٰ الہام سے اتفاق ہے؟ مرزا سلطان احمد صاحب سے ایک کمشنر صاحب نے دریافت کیا کہ مرزا صاحب کے الہام کے دعوے میں تمہیں بھی اتفاق ہے؟ جواب دیا کہ یہ سوال میرے نزدیک ایسا مشکل ہے کہ میںکیا جواب دوں۔آپ کمشنر اور میں تحصیلدار۔پھر میں بیٹا اور مرزا صاحب میرے باپ۔بہرحال میں یہ کہہ دیتاہوں کہ کیا خدا رازق تھا۔اس کا جواب یہ ہوگا کہ ہاں تھا۔کس طرح ؟اس لئے کہ وہ اب بھی رازق ہے۔کیا خدا خالق تھا؟ہاں تھا اس لئے کہ آج بھی خالق ہے۔پس کیا خدا کسی کے ساتھ ہمکلام ہوتا تھا؟ ہاں ہوتا تھا۔پس آج بھی کسی سے ہم کلام ہو تاہے۔۴۔خدا نے پہلی کتاب ہی کیوں کامل نہ کی ؟ آریہ لوگ بعض اوقات سوال کر بیٹھتے ہیں کہ دنیا میں خدا نے پہلی کتاب ہی کیوں کامل نہ کر دی بار بار کتابوںکے بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔جواب۔خدا کا کلام خدا کا قول ہے اور دنیا خدا کا فعل ہے اور خدا کے فعل میں ضرورتوں پر اشیاء کا ظہور ہو تا ہے یا نہیں۔مثلاً ریل آج کیوں بنی پہلے کیوں نہ ایجاد ہوئی۔پس پہلے بادشاہ ایسے ظالم تھے کہ مخلوقات کو ایک گاؤں سے نکل کر دوسرے گاؤں تک جانے کی اجازت نہ ہوتی تھی۔تو اگر اس وقت ریل ایجاد ہوتی تو لوگ سوار ہو کر کہاں جاتے یا محاصل و اسباب تاجروں کا لوٹ لیا جاتا تھا۔تو لندن سے کوئی شخص اسباب تجارت سٹیمرپرلاد کر بمبئی لایا اور بمبئی کے بادشاہ نے اسے