ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 194 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 194

دیکھو طاعون کی ابتدا حشرات الارض یعنی زمینی کیڑوں سے ہوتی ہے اور اوّل اوّل چوہے اس سے مرے ہیں۔پھر ترقی کر کے یہ انسانوں میں آئی ہے۔کیا یہ اس امرکاثبوت نہیں ہے کہ طبقہ انسان میں بھی جو لوگ حشرات الارض کے درجہ میںہیں۔اوّل طاعون انہی پرپڑنی چاہئے۔یعنی اوّل عام اورادنیٰ لوگ اس کا شکار ہوںاورپھرآہستہ آہستہ ترقی کر کے یہ بڑے بڑے اشرار پر حملہ کرے۔تم نہیں دیکھتے کہ جب آگ لگتی ہے تو کیا اوّل اوّل بڑے بڑے شہتیر جلتے ہیں یا خس وخاشاک اورچھوٹی چھوٹی لکڑیاں؟ پس یاد رکھو کہ یہی وطیرہ خدا تعالیٰ کے پاس مکر میں ہے اورعنقریب یہ بات کھل جاوے گی کہ بڑے بڑے لوگ بھی ہرگز مستثنیٰ نہیں ہیں۔طاعون کا اوّل دیہات وغیرہ میں پڑنے اوربڑے بڑے بلادوامصار کوچھوڑ دینے میںبھی یہی سِرّ ہے کہ اوّل چھوٹے چھوٹے گاؤں جوشہروں کے مقابلہ میں حشرات الارض کے حکم میں ہیں وہ مبتلا ہو لیں تو پھر بڑے شہروں میں آوے۔اس مضمون کی طرف ذیل کی آیت اشارہ کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔(الانعام: ۴۳،۴۴)۔(البدر جلد ۳ نمبر ۲۵مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۷) تین سوالات کے جوابات (۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء بوقت ۱۰ بجے صبح ) ۱۔کیا الہام اور مامورین کا سلسلہ بند ہو گیا ہے؟  الآخر (الانعام:۱۱۶) پھر سوال ہوا کہ اس کے ماقبل و مابعد پر غور کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ الہام اور مامور ین کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔فرمایا کیا کلمہ کے یہ معنے ہیں کہ اب الہام اور مامورین کا سلسلہ بند ہو گیا اور کیا اس کے ما قبل و ما بعد پر غور کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے۔ہر گز نہیں اس کے معنے تو یہ ہیں کہ اللہ