ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 193 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 193

کی نسبت زیادہ قابل اخذہو گے کیونکہ جو تم کو دیا گیا ہے وہ اوروں کو نہیں دیا گیاہے۔مامور تضرع کا قائم مقام نہیں ہے بعض نادان لوگ مامور کو ولی یا بزرگ جان کر اسے خدا کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں اور صرف اس کے تعلق بیعت کو تضرع کا قائم مقام بنا بیٹھتے ہیں یہ ان کی غلطی ہے کیونکہ مامور تو اپنی تعلیم دے کر ہر ایک قسم کی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتا ہے اور وہ تو بار بار یہی کہتا ہے کہ عمل درآمد منظور ہے جس کی نظیر اس وقت کشتی نوح کی تعلیم موجود ہے۔پس جو لوگ تضرع کو چھوڑتے ہیں اور حالتوں میں تغیر نہیں کرتے وہ خداکے غضب کے نیچے آئے ہیں۔پس چاہیے کہ تقویٰ کے حقیقی مغز کو حاصل کریںاور اپنی ہرایک حرکت اور سکون، معاملات، تعلقات اور لین دین، میل ملاپ، عبادات سب کچھ خدا کی مرضی کے موافق بجا لاویں تاکہ وہ اس سے محفوظ رکھے اور اس بات پر نازاں نہ ہوں کہ ہم نے بیعت کی ہوئی ہے۔اصل منشاء مامور کے آنے کا یہی ہے کہ تم تضرع کرو۔پس اگر تم تضرع میں مصروف نہیںہو تو تمہارا مامور سے کیا تعلق ہے؟ تضرع کیا ہے جبکہ خدا تعالیٰ یہ جانتا ہے کہ تم تضرع کرو اس لئے اس امر کا سمجھنا بھی ضروری ہے کہ خود تضرع کیا شے ہے؟ اس کے معنے یہ ہیں آہ و زاری اور نالہ و بکا کر کے کسی کو اپنے پر مہربان بنا لینا یا اسے راضی کر کے مورد انعام بن جانایا اس کے عذاب سے محفوظ رہنا۔جب انسان کسی کے آگے زاری کرتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ میری گزشتہ خطائیں معاف کی جاویں وہ آئندہ ایسا نہ کرے گا بلکہ حا لت میں تغیر کرکے آقا کی رضا مندی کا طالب ہوگا۔پس خدا تعالیٰ جو تم سے زاری چاہتا ہے اس کے بھی یہی معنے ہیں کہ تم اپنی حالتوں کو بدلو اور وہ بات اختیار کرو جس سے وہ راضی ہو تا ہے گویا دوسرے الفاظ میں سچی توبہ کے مفہوم کا نام تضرع ہے۔بڑے بڑے شریر کیوں نہیں طاعون سے ہلاک ہوئے بعض نادانوں نے یہ بھی غلطی کھائی ہے کہ وہ اعتراض کرتے ہیں کہ بڑے بڑے شریر کیوں نہیں ہلاک ہوئے وہ کیوں محفوظ ہیں؟ میرا یقین ہے کہ اس قسم کے معترض خدا تعالیٰ کی تعلیم اور اس کی سنت سے محض ناواقف اور غافل ہیں۔