ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 182 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 182

مسیحی (۱)۔عملاً توریت کے حلال وحرام اور احکام سے سروکار ہی نہیں رہا اور اشاعت بیبلی پر وہ زور لگاتے ہیں کہ اربوں روپیہ پانی کی طرح اس کام میں لگا دیا تعجب اور بہت تعجب۔(۲)۔تحقیق در تحقیق کی فکر اور انجیل مسیح کی کھو بیٹھے ہیں اس کا نام ونشان نہیں مگر ایک فقرہ (ایلی ایلی لماسبقتانی) (۳)۔نیچر کے دلدادہ ہیں اور غور نہیں کرتے کہ شیر کا بچہ شیر اور اس کے لوازمات اپنے ساتھ رکھتا ہے ان لوازمات سے محروم نہیں مگر مسیح میں الٰہی لوازمات کہاں؟ (۴)۔زانی کو آتشک خاص اور خاص سوزاک ہوتا ہے اور پھر بھی اعتقاد کہ مسیح کفارہ ہے۔کیا گناہ کا اثر جسم پر نہیں پڑتا؟ پڑتا ہے اسی واسطے آدمی ماتھے کے پسینہ سے روٹی کماتا ہے اور حوّا دردِزہ سے جنتی ہے پھر اس لئے آدم کا فرزند انسان معاً بپتسمہ سے شفا یاب کیوں نہیں ہوتا۔(۵)۔تثلیث و کفارہ میں دعویٰ ہے کہ اس میں عقل کو دخل مت دو اور نہیں سمجھتے کہ اگر عقل کو دخل نہ دیا جائے تو کسی غلط مذہب پر بھی کوئی اعتراض نہیں آسکتا۔(۶)۔ایک مسیحی اور اس کا چیلہ کہتا ہے کہ تثلیث کاباریک مسئلہ اب تک مسلمان سمجھے ہی نہیں۔پروفیسر کہتا ہے کہ ایشیائی دماغ اس دقیق بات تک پہنچتا ہی نہیں۔اس پر کہا گیا کہ مسیح خود ایشیائی اور اس کے نادان چیلے سب ایشیائی تھے کیوں سمجھے یا یہ مسئلہ یورپ کا ایجاد ہے؟ جس قدر اعتراضات ان لوگوں نے اسلام پر کئے بڑھ چڑھ کر ان لوگوں پر عائد ہوتے ہیں اور اپنے دعویٰ کو مدلّل نہیں کر سکتے اور نہ اپنے اعتراضات کو مبرہن۔مثلاًجہاد اور غلامی، کثرت ازدواج اور طلاق ان کے معرکۃ الآراء اعتراضات ہیں۔لاکن قومی جہادوں میں دنیا میں بے نظیر اور مجرموں مخالفوں کے غلام بنانے میں یہاں تک مبتلا کہ غلاموں کے لئے جو مکان ہے اس کو جہل خانہ نام رکھتے ہیں اور ہم وہاں رکھتے ہیں جہاں ہمارا ہی باپ بھائی فرزند۔کثرت ازدواجی کے منکر مگر عملی طور پر جو تقویٰ ہے وہ ظاہر کہ کنچنیاں