ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 181
مذاہبِ عالم پر ریویو عام پر مذہب صحیح وہ ہے۔(۱) جس کی صحت عملاً ثابت ہو۔(۲) پھر وہ جس کی حقیت اور نفس الامر یہ دلائل واضحہ اور حجج نیرہ سے ثابت ہو۔(۳) پھر وہ جو آخر مقابلہ میں مظفر ہو۔میں نے بارہا سو فسطائیہ اور وجودیہ کو اس پہلی دلیل سے جیتا ہے۔بارہا سوفسطائیہ کو کہا کہ عمل میں تم اپنے مذہب کو لا کر دیکھو۔جو کوئی تم میں سے بھوکا ہوتا ہے روٹی کھاتا ہے، پیاسا ہو پانی پیتا ہے، کچہری میں ملازم ہو وقت پر کچہری میں جاتا، اپنے اپنے فرض منصبی احتیاط سے ادا کرتا ہے پھر ان ظنون کا ثمرہ کیا ہوا جن کو تم بحث میں لاتے ہو۔ایسا ہی قائل وحدت الوجود عام بندوں کی طرح اعمال عبودیت سے کامیاب ہے پھر اس دعویٰ الوہیت کا نتیجہ کیا؟کفارہ کے اعتقاد کا عملی فائدہ بجز بیباکی کے کیا ہے؟ تثلیث سے کیا جدید عملی مقاصد حاصل ہوتے ہیں؟ ابو بکر کے ابطال خلافت سے اب کیا حاصل؟ کیا اب خلافت اس کو مل سکتی ہے جس سے تمہارے زعم میں لی گئی؟ غرض تمام بطلان پر یہ تلوار چلتی ہے۔(۲)کامل کتاب وہ ہے جو اپنے دعاوی کے صحیحہ دلائل پر اور اپنے مخالف کی تکذیب اور تکذیب کے دلائل نیرہ پر حاوی ہو۔یہ بات توریت موجودہ اور ہماری مطالعہ کردہ بائبل میں نہیں اور نہ اناجیل وگرنتھ میں اور نہ اس وید میں جو ہم نے سنا ہے نہ ژنداوستا میں اور نہ ساکتوں اور بدھوں کی مقدسہ کتب میں۔اور نیچریوں برہمووں کے یہاں جو کتاب صحیفہ فطرت ہے اس میں وہ اسرار مشکلہ ہیں کہ تریاق از عراق نمی آید ومار گزیدہ میمیرد۔