ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 177 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 177

مکتوبات حضرت حکیم الامت عاجز ہمہ عجز۔نورالدین عفا اللہ عنہ اپنے نہایت پیارے دوست الہ دین کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ عرض کرتا ہے۔شافی اپنے رحم سے محمد صدیق کوجلدتر شفا بخشے۔یہاں سرکار کی طبیعت علیل ہے۔اگرنوکری چھوڑتا ہوں تو یہ حرج کہ نمک حرام کہلاتا ہوں۔سب لوگ یہی کہتے ہیں کہ دیکھو آرام کے وقت حرام خوری کرتا رہا۔اب علالت کے وقت ترک تعلق کر کے چلا گیا۔وَاِلَّاآپ کی تار پرمیرا یہ بھی ارداہ تھا کہ اگر رخصت نہ ملی استعفٰی دے دوں گا۔یہاں کے احباب صلاح نہیں دیتے۔حیران ہوں اورایسا نازک موقعہ ہے کہ رخصت مانگنا بھی آدمیت اورنمک خواری کے خلاف ہے۔محمدصدیق سے جو آپ کا تعلق ہے وہی یا اس سے زیادہ میرا ہو گااور کیوں نہ ہو۔آپ کا اور میرا تعلق کچھ ایسا ہے جس کا بیان لا حاصل ہے۔آپ کو معلوم مجھے معلوم اورحکیم صاحب کو معلوم۔افسوس کچھ ایسے شش وپنج میں ہوں کہ الٰہی توبہ۔خداوند کریم اس سب تکلیف کے بدلے صدیق کو شفا بخشے۔آمین یارب العالمین۔میں نہیں کہتا مجھے اپنی لڑکی پیدا ہونے کی خوشی نہیں۔وہ خوشی قدرتی یا فطرتی ہے۔الّا صدیق کی بیماری ایسی حالت میں ’’سیروارحلوا‘‘ سے کچھ کم نہیں۔آپ کی رنج و آرام کو میں بالکل اپنا رنج و آرام جانتا ہوں۔تقدیری معاملات کے آگے انسانی چارہ گری محض لاشیٔ ہوا کرتی ہے۔پیارے! میرے جیسا آزاداس مصیبت تعلق میں جس طرح خوش وخرم ہو گا آپ اس کا اندازہ کر سکتے ہیں؟ آپ کی سردردی کہاں تک کروں؟اصل مطلب پر مشرقی وایشیائی عادات ورسومات کا داغ نہ لگے۔جواب کرم نامہ تحریر کرتا ہوں… میں بھی مکرر رخصت کی تدبیر کرتا ہوں… شیخ صاحب جی سب رنج وآرام ومصائب وتکالیف کا باعث ہمارے گناہ ہیں اور استغفار سب سے عمدہ علاج ہے۔آپ معاصی سے توبہ پھر سچی توبہ فرمائیے۔انشاء اللہ تعالیٰ خداوند کریم رحم کرے گا۔خط پر تاریخ ضرور لکھا کرو۔والسلام ۶؍ اسوج ۲۱؍ نومبر۔از جموں