ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 170
وصیت تم نے لکھی ہے بہت ٹھیک ہے۔اس میں کوئی بات خلاف شرع معلوم نہیں ہوتی۔ایسی وصیت لکھ کر ہمیشہ اپنے پاس رکھنی چاہئے حدیث شریف میں بھی وارد ہے۔اور میرے صدمہ کی بابت آپ نے سنا ہو گا۔دعا کیجیے آئندہ کے واسطے خداوند تعالیٰ رحم فرمائے۔آمین۔اور میرے بھائیوں کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔آمین۔( الحکم جلد۸ نمبر ۱۔مورخہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۳،۱۴) سخن گفتی ودرسفتی ۹؍جنوری ۱۹۰۴ ء کو قادیان سے دو معزز مہمان رخصت ہونے والے تھے وہ حضرت حکیم الامت کی خدمت میں بھی بغرض حصول ملاقات حاضر ہوئے اور ایک صاحب نے فرمایا کہ’’ آپ باتیں بھی بہت ہی دلچسپ اور مزہ دار کرتے ہیں‘‘۔یہ ایک جملہ کا حاصل مطلب تھا۔اس پر حکیم الامت نے جو کچھ فرمایا وہ اس قابل نہیں کہ آبِ زر سے اسے لکھا جاوے بلکہ اس قابل ہے کہ اس پر عمل کیا جاوے۔آپ نے فرمایا۔’’میں قوّال کی نسبت فعّال کو پسند کرتا ہوں‘‘ یعنی بہت کہنے والے کے مقابلہ میں کرنے والے کو ترجیح دیتا ہوں۔حقیقت میں حکیم الامت کا یہ جملہ خوش گفتی ودرسفتی کا مصداق ہے خدا کرے ہم اس پر نرے غور کرنے والے نہ ہوں بلکہ اس پر عمل کرنے والے ہوں۔آمین۔(الحکم جلد۸ نمبر۲ مورخہ ۱۷؍ جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ۴) حضرت حکیم الامت کامکتوب السلام علیکم۔قیدیان جنگ چار قسم کے ہوتے ہیں اوراب بھی چار قسم ہیں۔اوّل وہ جو شرارت کے سبب سے اس قابل ہی نہیں رہتے کہ امن عام کے ـسخت دشمن نہ ہوں ایسے لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے۔چنانچہ اب بھی کورٹ مارشل میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ایسے موذیوں کا زندہ رکھنا ایک ایسے دانت کی مثال ہے جس کے ضرر سے دوسرے دانتوں کوتکلیف پہنچتی ہے۔اگر نکالا نہ جاوے تو سارے دانتوں پر اس کا برا اثر پڑ کر سب کو تباہ کر دیتا ہے۔دوسرے وہ قیدی جن کے بدلے روپیہ دے کر یا دوسرے قیدی کو چھڑانے کا فائدہ حاصل ہوتا ہے ان دونوں کا ذکر قرآن میں یوں