ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 157
حج کے موقع پر پردہ کا حکم نہ ہونے کی وجہ عاشقانہ نیاز مندی کے آداب کے برخلاف یہ بات ہے کہ پردہ کیا جاوے کیونکہ اس سے عشق پر حرف آتا ہے اس لئے وہاں عورتوں کو پردہ کا حکم نہیں ہے۔ان دنوں میں، میں نے ہیر اور رانجھا کا قصہ پڑھاتو وہاں اسی عاشقانہ نیاز مندی کی ایک عجیب بات لکھی ہے کہ ہیر جب رانجھا کے واسطے روٹیاں لے کر جا رہی تھی تو قاضی صاحب نماز پڑھ رہے تھے اس نے نہ دیکھا سامنے سے گذر گئی۔جب قاضی نماز سے فارغ ہو کر اس پر ناراض ہوا تو اس نے جواب دیا کہ اے قاضی میں تو رانجھے کی طرف جا رہی تھی اور اس کے عشق میں مجھے نظر تک نہ آیا کہ تو نماز پڑھ رہا ہے کہ نہیں مگر تعجب ہے کہ تیری کیسی نماز تھی کہ تو نے مجھے دیکھ لیا۔غرض یہ کہ حج کی صورت ایسی ہی ہے جیسی کہ اوپر بیان ہوئی اس میں انسان اسی کوچہ میں چکر کھاتا ہے جہاں ابراہیمؑ نے چکر کھائے اور اللہ تعالیٰ سے کلام کی۔غور کرو اس آیت پر الخ(البقرۃ :۱۲۸) پھر میں نے اندازہ کیا ہے کہ اگر پتھروں کی عمارت ہو تو انسان زیادہ سے زیادہ سات … تک کھڑے ہو کر آسانی سے بنا سکتا ہے اور اسے گو وغیرہ باندھنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور چونکہ کوئی اس پتھر اور مقام کی تخصیص اور تعین نہیں کرتا جس پر اور جس جگہ کھڑے ہو کر ابراہیم ؑ اور اسمٰعیل ؑ نے دُعائیں مانگیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں باپ بیٹے اسی چکر میں دُعا مانگتے رہے ہیں جب تک کہ سات ردّے عمارت کے پورے نہیں ہوئے اور ردّوں کی تعداد سے پتہ لگتا ہے کہ سات ہی چکر تھے اور اسی تعداد پر اب بھی چکر کھائے جاتے ہیں۔یہ ابراہیم ؑ اور اسمٰعیل ؑ کی عاشقانہ نیاز مندی کی طرز تھی جس کی تعلیم دی گئی اور یہ بڑے قوی مومن تھے کہ ایک نے تو باپ ہو کر بیٹے کو ذبح کرنا چاہا دوسرے بیٹے نے جان دینے میں دریغ نہ کیا تا کہ خدا راضی ہو جاوے مگر چونکہ بعض مومن کمزور ہوتے ہیں۔