ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 156
پابندی کے لحاظ سے آدابِ الٰہی کو مدِّنظر رکھ کر تمام ارکان بجا لائے جاتے ہیں۔لیکن عاشقانہ نیاز مندی کا طریق اور ہے کہ کسی محبوب کی دھت میں نہ کھانے کی فکر نہ پینے کی۔ہونٹ خشک ہو رہے ہیں۔کسی سج دھج بناؤ سنگار کا خیال نہیں ہے۔شہوانی قویٰ پروہ موت ہے کہ بیوی کا خیال تک نہیں آتا۔کبھی جو پتہ لگ جاتا ہے کہ محبوب وہاں فلاں کوچہ میں ہے تو یہ بھی دوڑ کر وہاں پہنچتا ہے۔نہ سر کی خبر ہے کہ پگڑی ہے کہ نہیں اور نہ پاؤں کی کہ جوتا ہے کہ نہیں اور اس کوچہ میں چکر پر چکر دیتا ہے کہ کسی طرح اس کی جھلک نظر آجاوے۔اگر سارا چہرہ نہیں تو کوئی حصہ ہی سہی۔کلام ہی سہی اور اگر اس میں کوئی حارج ہو تو کچھ پتھر اسے بھی رسید کر دیتا ہے اور اگر اس کے وہم میں بھی یہ بات آجاوے کہ محبوب نے بلایا ہے تو حاضر ہوں! حاضر ہوں !کہتا ہوا دوڑتا ہے جو لوگ عاشق مزاج رہ چکے ہیں یا اگر نہیں تو محباّنہ مضامین کی کتب تو دیکھی ہوں گی جن میں عاشقوں کی اس حالت کا بیان ہوتا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ عاشقوں پر ایک ایسا وقت ضرور آتا ہے اور اسی محباّنہ نیاز مندی کی ادا کو اللہ نے اپنے بندوں کے واسطے روزہ اور حج میں رکھا ہے۔دیکھو مکہ میں خدا کا مکالمہ ہوا۔دیدار ہوا اور یقیناً ہوا وہاں اللہ تعالیٰ نے بچوں، عورتوں اور بڈھوں پر فضل کئے۔اس لئے یہ انسانی خاصہ ہے کہ جب دیکھتا ہے کہ فلاں مقام پر فلاں فلاں فضل ہوا تو اس کے اندر خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہاں کچھ نہ کچھ ضرور ہے۔وہ کون سا بچہ اور کون سی عورت اور کون سا بوڑھا تھا جسے خدا مکہ معظمہ میں نظر آیا وہ بوڑھا تو ابراہیم علیہ السلام تھا اور عورت بی بی ہاجرہ تھیں اور وہ بچہ اسماعیلؑ تھا اور وہ حقیقی جوان محمد رسول اللہ سید الاوّلین والآخرین صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کو خدا ملا ہے اور ان سب کے ساتھ کلام بھی کی ہے جس کثرت اور جمعیت سے خدانمائی مکّہ میں ہوئی ہے کوئی اور مقام صفحہ ہستی پر نہیں کہ اس جمعیت کے ساتھ خدا نمائی کا دعوٰی کرے۔مکّہ میں رؤیتِ الٰہی خوب ثابت ہے اس لئے ایک سلیم الفطرت انسان جب امید باندھ کر نیاز مندی اور خواہش سے وہاں جاتا ہے تو رحیم اور کریم خدا کب چاہتا ہے کہ اسے محروم رکھے۔