ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 155 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 155

اس کے مطالعہ سے میرے خیالات کے تدریجاً عروج کا پتہ مل سکتا ہے۔اس وقت …بھی یہ بات بخوبی میرے دل میں بیٹھ گئی ہوئی تھی کہ ایسا کوئی بھی مذہب نہیں ہے کہ اگر اس میں کوئی خوبی ہو تو وہ خوبی اسلام میں نہ ہو اور اسلام کی کوئی ایسی خوبی نہیں ہے جو کہ اس کے فرقہ اہل سنّت و الجماعت میں نہ ہو اور فرقہ اہل سنّت والجماعت کی کوئی ایسی خوبی نہیں ہے جو کہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اور شیخ ابن تیمیّہ اور ان کے تلمیذ ابن قیّم کے طریق میں نہ ہو۔گویا میں ایک طرح سے اس وقت شاہ ولی اللہ صاحب کا مقلّد تھا یا شیخ ابن تیمیّہ وابن قیّم کا۔اس وقت کے حنفیوں یا یوں کہو کہ اسلام کے فلاسفروں سے مجھے محبت تھی اور کتاب حجۃ اللہ البالغہ شاہ صاحب کی تصنیف جو کہ اس وقت ملتی نہ تھی میرے ساتھ رہتی تھی۔اس کے مطالعہ سے میرا مذکورہ بالا یقین خوب پختہ ہو گیا ہوا تھا اور میرا مذہب وہ مذہب تھا جو کہ تصوّف، فقہ، حدیث اور فلسفیت کو جمع کرتا ہے۔اس وقت ہر مذہب اور ملّت کے طالب علم کے ساتھ میرا تعارف تھا جبکہ مجھے یہ خیال پیدا ہوا کہ نیاز مندی کی کتنی اقسام ہیں۔غو رکے بعد اس کی دو قسمیں میری سمجھ میں آئیں۔نیاز مندی کی دو اقسام اور ان کی وضاحت ایک۔خادمانہ نیاز مندی۔دوسری۔عاشقانہ نیاز مندی۔خادمانہ نیاز مندی کا یہ رنگ ہے جو کہ ہم ہر روز سرکاری درباروں اور حکّام کی پیشیوں میں دیکھتے ہیں کہ اپنے آقا کے کہنے کے مطابق خادموں کی ایک خاص وردی ہوتی ہے وہ پہن کر وقت مقررہ پر حاضر ہوتے ہیں اور ہمیشہ صاف اور ستھرے رہتے ہیں کہ آقا ناراض نہ ہو اور مجرا، سلام، نشست برخاست دربار کے … وقت کے خاص آداب ہوتے ہیں جو کہ وہ بجا لاتے ہیں اور خاص خاص خدام کو نذر بھی گذرانی جاتی ہے۔یہ حالت اپنے بندوں کی خادمانہ نیاز مندی کی خدا تعالیٰ نے زکوٰۃ اور نماز میں رکھی ہے کہ اس میں روپیہ بھی خرچ کرنا پڑتا ہے اور وقت کی