ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 154 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 154

حج کی فلاسفی ایک دفعہ درس قرآن شریف میں جناب محمد عجب خان صاحب تحصیلدار ایبٹ آباد کے اس سوال پر کہ حج کی فلاسفی اور فائدہ کیا ہے ہمارے مخدوم مولانا حکیم نورالدین صاحب نے جو تقریر حج کی فلاسفی پر کی وہ ذیل میں درج کی جاتی ہے تا کہ ہر ایک مومن حسب استطاعت اس سے مستفید ہو سکے۔فہم و فراست کے اسباب فہم اور فراست کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو اسباب دئیے ہیں وہ تین قسم کے ہیں۔(۱)وہ جن کو عام نگاہ سمجھ سکتی ہے۔(۲) وہ جو فلاسفروں بادشاہوں اور مدبّروں کی سمجھ میں آتے ہیں۔(۳) دوسری قسم کی مخلوق سے جو بالاتر مخلوق انبیاء اولیاء و رسل وغیرہ کی سمجھ میں آتے ہیں لیکن پھر آگے ان کے مدارج بھی مختلف ہیں۔میراا بھی ابتدائی سن اور طالب علمی کا زمانہ تھا کہ حج مجھ پر فرض ہوا اور میں نے اس وقت دو حج کئے۔میری طبیعت اُس وقت بھی بہت آزاد، حریت پسند اور دلائل کی محتاج تھی۔اس عمر اور طالب علمی کے زمانہ میں کچھ محرکات میرے حج کرنے کے تھے پھر وسط عمر میں وہ اور بڑھ گئے اور اب اس وقت میری معرفت ضرورتِ حج کے بارے میں خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے بہت زیادہ کر دی ہے۔میں اس وقت اپنے اوّل محرکات کا ذکر کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس وقت بھی میری طبیعت نے یہ امر میرے دل میں جما دیا تھا کہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو تمام خوبیوں کا جامع مذہب ہے اور تمام غیر مذاہب کا مہیمن ہے۔اس وقت جو میری سوسائٹی ہم عمروں اور طالب علموں کی تھی جب کبھی قرآن یا اسلام کی بات اس میں چلتی تو میں خدا کے فضل سے قرآن کے ذریعہ ہی ان سب پر غالب آتا۔میرے اس وقت کا قرآن اب تک میرے پاس موجود ہے اور اس وقت جو جو میری تحقیقات اور خیالات تھے ان کے مطابق تمام حواشی چڑھے ہوئے ہیں