ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 153
ذکر الٰہی کے فوائد ذکر الٰہی سے قویٰ مضبوط ہو جاتے ہیں حتی کہ بوڑھے جوان ہوجاتے ہیں اور اس امر کا ثبوت قرآن شریف ہی سے ملتا ہے حضرت زکریاؑ نے اپنی کمزوری کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا علاج یہی بتایا ہے کہ تم ذکر الٰہی کرو اور تین روز تک کسی سے کلام نہ کرو چنانچہ انہوں نے اس پر عمل کیا اور خدا نے جیتی جاگتی اولاد عطافرمائی۔حدیث شریف میں ذکر ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک خادمہ مانگی۔آپؐ نے فرمایا کہ ہر نماز کے بعد ۳۳مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور اَللّٰہُ اَکْبَر پڑھ لیا کرو اور سوتی دفعہ بھی۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اوروہ ضرورت محسوس نہ ہوئی۔اللہ کے علم اور افعال کی اقسام اللہ تعالیٰ کا علم دو قسم کا ہوتا ہے ایک ازلی ابدی دوسرا بعدالوجود اشیاء۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے افعال بھی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک افعال اللہ تعالیٰ کے بلا وساطت غیرے ہوتے ہیں اور ایک بالواسطہ، جو بلا واسطہ ہوتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ واحد کا صیغہ استعمال فرماتا ہے اور بالواسطہ میں جمع کا صیغہ یہ قرآن شریف کا عام طرز اور … ہے۔اسماء الٰہیہ کی تنزیہ کے تین طریق (الأَعلٰی : ۲) سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کا کام ہے کہ وہ اپنے رب کے اسماء کی تنزیہ کرتا رہے اور وہ تین طرح سے ہوتی ہے۔اوّل۔اللہ تعالیٰ پر بعض لوگ بد ظنی کرتے ہیں اور اپنے اوپر نیک ظن کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے کوشش تو بہت کی مگر ہماری محنت کا ثمرہ نہ ملا یہ بد ظنی چھوڑ دو۔دوم۔اپنے چال چلن سے خدا تعالیٰ کی صفات کی عزت اور حرمت کرو۔سوم۔اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنٰی پر کوئی اعتراض کرے تو اس کا جواب دو۔( الحکم جلد۷ نمبر۳۶ مورخہ ۳۰؍ستمبر۱۹۰۳ ء صفحہ۴)