ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 151
سے دیکھیں۔تم خوب یاد کرو کوئی لفظ ،کوئی حرکت بد، کوئی نا شائستہ ارادہ اور نالائق خواہش میری تم پر کبھی بھی ظاہر ہوئی؟ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو ابتداء سے میرے شامل حال ہیں۔میں ذکر کروں گا کیونکہ یہ نعمت الٰہی کا بیان ہے۔میں نے جب دعا کی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے اور تعجب آتا ہے کہ کس طرح اللہ کریم میرے ساتھ تھا کہ مجھ کو ہمیشہ محفوظ رکھا والّا نادان کیا نہیں کر گزرتا۔پھر میں نے ہمیشہ ترقی کی یہاں تک کہ حضرت امام صادق کی بیعت نصیب ہوئی اور تم میرے ساتھ مرید ہوئے۔اب مجھے امید ہو گئی کہ الٰہ دین جو میرا پیارا دوست ہے میرا بھائی ہو گیا۔اب انشا ء اللہ تعالیٰ ترقی کرے گا۔لاکن تم نے ٹھوکر کھائی اور قادیان کا آنا تو ترک کر دیا تھا مگر جو چندہ بغر ض خدمت وعدہ کیا تھا اس سے بھی بخل کیا۔افسوس! افسوس!! افسوس!!! کیا تم پر یہ فضل کچھ کم تھا کہ میرا کوئی دنیوی احسان تم پر نہیں ہوا؟ میں نے اب تک ایک کوڑی کا تم سے سلوک نہ کیا۔بااینکہ مجھ میں دولت کے لحاظ سے بڑی و سعت تھی تم اس بھید کو نہیں سمجھے اس میں الٰہی حکمت تھی اور ہے اگر سوچو وَ اِ لاَّہم بتا ئیں گے۔بہرحال جس خرچ کا تم کوڈر تھا شاید اتنا خرچ ان مشکلات میں ہو جاوے۔اللہ رحم کرے۔الٰہ دین !میں راستباز ہوں اور میرا امام بے ریب بالکل راستباز ہے ہم دنیا پرست نہیں، دنیا کے طالب نہیں، دنیا کے لئے ہم کوشش نہیں کرتے۔راستبازی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔اسی واسطے کامیاب ہیں اور رہیںگے آہ کوئی سمجھے اور تم سمجھو۔اب میری صلاح یہ ہے کہ تم سچی توبہ کرو۔کھانے پینے لبا س خوراک گھر کے اسباب میں ایسی تدبیر کرو جس میں مال حرام کا کوئی حصّہ نہ رہے اور استغفار و دعا اپنا شعار بنا لو۔اور متواتر بحضور حضرت امام معذرت کے خطوط لکھو مگر براہ راست ہوں۔میرے ذریعہ سے نہ ہوں۔میں دعا کروں گا مگر تم نے مجھے بہت ناراض کر دیا ہوا ہے میں نے ایک خط میں صاف لکھ دیا تھا۔مدت ہوئی کہ تم ضرور یہاں آجائو۔مگر کون سنتا ہے؟ اللہ تعالیٰ تم پر فضل کرے گا اور تمہاری مدد کرے گا اور میری دعاسنے گاجب میں کروں گا۔غور کرو ہمارا کنبہ کس طرح محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے پلتا