ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 147 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 147

ذاکرین عام طور پر مشاہدہ سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ ذاکرین ہمیشہ فضول گو لوگوں کی نسبت مضبوط ہوتے ہیں۔قربانیوں کی فلاسفی قربانیاں کیوں ہوتی ہیں؟ تاکہ اللہ تعالیٰ کی وحدت پر انسان کو یقین ہوجائے اور ہر طرح سے عزیز سے عزیز چیزوں کی قربانی کر کے ثابت ہو جائے کہ ان سب سے پیار ا اور مقصود بالذات خدا ہی ہے اس پر اپنا سب کچھ قربان کر کے دکھا دینا ہی سچی بہادری اور صداقت ہے۔امرِ باطل باطل وہ امر ہوتا ہے جس پر نہ کچھ عذاب ہو اور نہ ثواب ، نہ وہ امر مفید ہونہ مضر،نہ اس سے آرام ہو نہ تکلیف۔پس ہر ایک کام میں اس کو بطور میزان بناؤ۔گناہ گناہ سے مراد ہر وہ امر ہے جو عام مجالس میں کرتے ہوئے مضائقہ کیا جاوے جو کام لوگوں کی نظر سے پوشیدہ کر کے کیا جاوے اور پھر ان کے سامنے کرنے سے کنارہ کشی کرنی پڑے۔(الحکم جلد ۷ نمبر ۲۹ مورخہ ۱۰؍ اگست۱۹۰۳ ء صفحہ۱۴) غیبت اور غیبت کنندہ  (الحجرات : ۱۳) غیبت کرنے والے کو قرآن شریف نے اپنے بھائی کا گوشت کھانے والا قرار دیا ہے اور یہ امر واقعات سے ظاہر ہے کیونکہ جس شخص کی غیبت کی جاوے جب اس کو معلوم ہوتا ہے کہ فلاں شخص نے اس کی غیبت کی اور اس کی برائی بیان کی تو اسے رنج ہوتا ہے اور سخت صدمہ پہنچتا ہے۔اس رنج اور صدمہ سے انسان کا خون اور گوشت کم ہو جاتا ہے اس طرح پر وہ کمی اس غیبت کنندہ کی وجہ سے ہوئی۔پس وہ گوشت جو کم ہوا وہ گویا اس غیبت کرنے والے نے کھایا ہے۔اس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا کہ تم کسی کی غیبت نہ کرو۔غیبت کے معنے ہیں ایسی بات جو اگر کسی کے سامنے کی جاوے تو کہنے والا رکے اور شرم کرے۔