ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 136 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 136

تو یاد رکھو ایسا خیال سخت خطرناک ہے۔اسی وقت استغفار کرو کیونکہ یہ حالت شیطان کی ہوتی ہے جو قرآن شریف اس کے لئے باعث راحت نہیں ہے۔پس تم ایک ڈائری بناؤ اور اس میں وہ تمام باتیں جو تم سنو، پڑھو درج کرو اور ان میں غور کرو کہ کیا تمہیں قرآن کریم سے لذّت آتی ہے یا کسی اور کے کلام سے پھر تمہیں پتہ لگ جاوے گا کہ تم کون ہو۔قیامت کی بیّن دلیل قرآن شریف نے دلائل قیامت بیان کرتے ہوئے ایک لطیف دلیل دی اور وہ یہ ہے۔کہہ دو کہ ان ملکوں کی سیر کرو جہاں انبیاء علیہم السلام جو مصدق قیامت تھے آئے تھے۔(النمل :۷۰)پس تم دیکھو کہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسولوں سے قطع کرنے والوں کا انجام کیا ہوا یعنی جو لوگ مکذب و منکر قیامت تھے ان کے انجام پر نظر کرو۔قیامت کا منکر جب قیامت کے قائل کے سامنے بشکل مخالف کھڑا ہوتا ہے اور مقابلہ کرتا ہے تو منکر ہلاک ہوجاتا ہے جس سے مصدق قیامت کے ساتھ تائید الٰہی ثابت ہوتی ہے اور یہی قیامت کی بین دلیل ہے۔المودۃ فی القربیٰ اس کے معنے کرتے ہوئے حضرت حکیم الامت نے فرمایا۔قربیٰ (۱) وہ باتیں جن سے تم مقرب باللہ بن جاؤ۔( میں چاہتا ہوں کہ یہ معنی سب سے مقدم ہوں۔نورالدین)۔(۲) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کے یہ معنے کئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام قریش قریبی رشتہ دار تھے اور ان تمام میں باہم ہمیشہ جنگ وجدال رہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے کچھ نہیں چاہتا سوائے اس کے تم باہم کی لڑائیاں چھوڑ دو اور آپس میں محبت کرو۔(۳) تمام مقربان خدا کے ساتھ محبت کرو  (الواقعۃ : ۱۲) (التوبۃ : ۱۰۰) (۴) القربٰی جمع الاقارب۔(آل عمران:۱۰۴