ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 135
یہود تو ہو گئی مگر ان کی اصلاح کے لئے جو مسیح آئے گا وہ اس امت میں سے نہ ہوگا۔وہ دوسری قوم یہود سے ہوگا؟ ببیں تفاوت رہ از کجاست تا بکجا۔مخلوق کی دو اقسام مخلوق دو قسم کی ہوتی ہے ایک وہ جو دوسروں پر طعن اور اعتراض کرتی ہے مگر اپنے منصب، قوم اور ذات کے فضائل کچھ بھی بیان نہیں کر سکتے۔اس قسم کی مخلوق کے ماتحت وہ مذہب ہیں جو اسلام کی مخالفت کرتے ہیں مثلاً کُل عیسائی کُل انبیاء علیہم السلام اور کُل راست بازوں اور صدیقوں کے متعلق اعتراض کرتے ہیں لیکن اپنی کوئی خوبی اور فضیلت بیان نہیں کر سکتے۔ایسا ہی آریہ سماج والے بھی کرتے ہیں یہ لوگ چھینتے ہیں مگر دیتے کچھ بھی نہیں۔اس لئے ان کا علاج ہے استغفار کرنا، دعا کرنااور خدا تعالیٰ کا فضل مانگنا (القارعۃ : ۷) ایسے ہی لوگوں کے واسطے ہے۔دوسری وہ مخلوق ہے جو اپنے فضائل کو پیش کرتی ہے اور دوسروں کے رزائل کو دور کر کے ان کو ان کا وارث بناتی ہے۔یہ اسلام کا خاصہ ہے کہ اول نعم البدل، خوبی اور عمدگی پیش کرتا ہے اور پھر اپنے مخاطبوں سے چھوڑنے والی چیز کی بدی نقص اور قبح کو ظاہر کرتا ہے اور یہ فضیلت صرف اسلام ہی کو حاصل ہے۔(الحکم جلد۷ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۷؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ۲۰) زبرالاوّلیناور کتاب اللہ میں فرق تمام صداقتیں جو پہلی کتابوں میں پائی جاتی ہیں وہ قرآن شریف میں موجود ہیں مگر زبرالاولین اور کتاب اللہ میں اتنا فرق ہے کہ پہلی کتابوں میں وہ صداقتیں مدلل اور مبرہن نہیں ہیں اور قرآن شریف ان کو مدلل اور مبرہن… کر کے بیان کرتا ہے۔تلاوت قرآن کی اصل غرض قرآن شریف کی تلاوت کرو مگر عمل کے لئے اور اگر قرآن شریف میں کوئی آیت ایسی پاؤ جو دوبھر معلوم ہو اور ایسا نظر آوے کہ اس پر عمل نہیں ہو سکتا