ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 133 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 133

رخصتوں میں ملتا ہے۔والدین اگر بے نماز ہوں یا سست ہوں تو ان کو اپنی نماز کی پابندی کا نمونہ دکھا کر ہوشیار کرنے کا موقع ملتا ہے اور اگر ہوشیار ہیں تو ان کو خوش کرنے کا اور ان سے بڑھنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔متقی کے ہر حال جنت قریب ہوتی ہے   (قٓ : ۳۲)یعنی متقی کے ہر حال اورہر وقت میں جنت قریب ہوتی ہے اس کے واسطے دنیا میں جنت ہوتی ہے قبر میں، حشر میں، نشرمیں، صراط میں ہر جگہ جنت ہوتی ہے یہاں تک کہ اس کے واسطے جہنم بھی جنت ہوتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک داروغہء ِجیل جیل میں جاکر چوروں کو نکالتا ہے وہ خود زندانی نہیں ہوتا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی دوزخ میں سے بعض کو نکالیں گے تو آپ کے واسطے وہ بھی جنت ہی ہوگا جنت کے مستحق اوّاب اور حفیظ ہوتے ہیں۔اوّاب وہ ہوتے ہیں جو رجوع الی اللہ کرنے والے ہوتے ہیں اور حفیظ وہ ہوتے ہیں جو اس رجوع پر مستقل مزاج ہوتے ہیں۔انبیاء پر اوّلین غرباء کے ایمان لانے میں سِرّ سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور ماموران الٰہی کے ساتھ شروع میں بڑے لوگ شامل نہیں ہوتے بلکہ ان کی طرف غریب اور کمزور لوگوں کا رجوع ہوتا ہے۔اس میں ایک عظیم الشان سرّ ہے اور وہ یہ ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ کے مامور کامیاب اور بامراد ہونے والے ہوتے ہیں اس لئے اگر ان کے ساتھ بڑے آدمی اوّل اوّل شریک ہوجائیں تو ان کے ایمان کمزور ہوں اور ان کا تکبر بڑھ جاوے وہ یہ کہیں کہ اس کی کامیابیاں ہمارے ہی سبب اور ہمارے ہی رسوخ سے ہوئی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو اوّلاً شریک نہیں کرتا تا وہ اس کے مامور پر اپنا احسان نہ جتانا شروع کردیں۔پس چھوٹے درجہ کے لوگ اوّل اوّل توجہ کرتے ہیں اور پھر خدا تعالیٰ ان کو کامیاب اور بامراد کرتا ہے جس سے ان کا ایمان بڑھتا ہے اور وہ احساناتِ الٰہی کا اقرار کرتے ہیں اور یہ کامیابیاں دنیا کے واسطے عظیم الشان معجزہ ٹھہرتے ہیں کیونکہ وہ لوگ جو کمزور اور زبردست نظر آتے تھے وہ