ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 131
سوم۔غیر قوموں کے تعلقات سے۔قسم کی فلاسفی دنیا میں قسم تین طرح کے لوگوں کے کام آتی ہے ادنیٰ یا اوسط یا اعلیٰ۔ان تینوں ہی قسم کے آدمیوں کے کام قسم آتی ہے۔ادنیٰ قسم کے لوگ جو دلائل سے ناواقف ہوتے ہیں ان کو قسم پر اعتبار ہوتا ہے اور وہ یقین کرتے ہیں کہ جھوٹی قسم کھانے والا ذلیل ہوجاتا ہے۔چنانچہ ان میں ایک ضرب المثل ہے۔اِنَّ الْاَیْمَانَ تَضَعُ الْاَرْضَ بَلٰقِعَ۔اب عوام کے مذاق پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کیسی سچائی ثابت ہوتی ہے کہ اس قدر قسمیں آپ نے کھائیں مگر ذلیل نہیں ہوئے بلکہ آپ نے کامیابی اور ترقی حاصل کی۔دوم۔اوسط درجہ کے واسطے بھی قسمیں مفید ہیں درباروں اور کچہریوں میں قسم بطور شاہد سمجھی جاتی ہے اور۔سوم۔اعلیٰ درجہ کے لوگوں کے واسطے بھی قسم مفید ہوتی ہے اعلیٰ درجہ کے لوگوں میں فلاسفروں کو بھی سمجھتے ہیں ان پر بھی قسم کے ذریعے اتمام حجت کی گئی ہے کیونکہ قرآن شریف میں جس چیز کی قسم کھائی ہے اس کو بطور شاہد ٹھہرایا ہے اور اس کے حقائق اور خواص کی طرف توجہ دلائی ہے۔قبولیت دعا کی دو اقسام دعا کی قبولیت کے دو قسم ہوتے ہیں ایک قبولیت بطور اجتبا ہوتی ہے دوسری بطور ابتلا۔اس واسطے ضروری ہے کہ دعا مانگنے سے پہلے بڑا بڑا استغفار کر لیا جاوے ایسا نہ ہو کہ دعا کی قبولیت ابتلائی رنگ میں ہو جاوے۔تین زبانیں انسان کو تین زبانیں سیکھنی لازم ہیں۔اول۔دین کی زبان۔ملک کے شرفا کی زبان اور حاکم وقت کی زبان۔( الحکم جلد۷ نمبر۲۱ مورخہ ۱۰؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۳،۴) ایمان اور حبّ الٰہی بڑھانے کے اسباب ایمان کے سوا نجات نہیں اور حب الٰہی کے سوا اس کی ترقی نہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے ان دونوں قوتوں کے بڑھانے کے واسطے اسباب