ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 12 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 12

فداہ ابی وامیﷺ کو کیا غرض پڑی تھی کہ اس کا ذکر فرماتے، یا اللہ کریم اپنی جلیل القدر ، کافی، پاک، نور، ہدی، رحمت کی کتاب میں اس کا ذکر فرماتے حالانکہ بات صاف تھی۔دانیال کی کتاب میں حضرت دانیال نے جناب فخر عالم خاتم الانبیاء کی بابت پیشگوئی کرتے اور حضور علیہ السلام کا زمانہ بتانے کے لئے ذوالقرنین کا قصہ بتایا ہے۔د یکھو دانیال ۸ باب ۴ اور یہ ذوالقرنین کا ۸باب ۴ دانیال کا سکندر رومی سے جس کو دانیال نبی نے ذو مقرن کر کے بیان فرمایا ہے پہلے ہے۔دیکھو دانیال ۔میں یہ بیان اس وقت نہیں کرتا کہ دانیا ل کی کتاب سے کس طرح اس پاک زمانہ خیر القرون کا پتہ لگتا ہے بلکہ ذوالقرنین کے قصہ پر میرا روئے سُخن ہے۔پھر عیسائیوں نے اس امر کے مخفی کرنے کے لئے ذوالقرنین کے معنے میں بڑی بڑی شرارت کی ہے جیسے اُن تفاسیر سے ظاہر ہے۔آپ انگریزی میں دیکھ سکتے ہیں۔حالانکہ کیقباد یا مثلاً دائود علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کے متعلق اسرائیلی لوگوں نے اُوْریا کا ناپاک ، گندہ بہتان جوبیان کیا۔ہمارے بعض بھولے مفسروں نے یہ تفسیر کبیر سے لے لیا اور جناب علیـؓ کا وہ پاک اثرجس میں انہوں نے فرمایا کہ اگر کوئی قَصّاص اُوْریا والا قصہ جناب دائود علیہ السلام کے متعلق بیان کرے گا تم میں سے تو میں اُسے رجم کروں گا۔جیسے تفسیر کبیر کے رحمہ اللہ مفسر نے بیان فرمایا ہے۔اس کو ان تمام مفسروں نے چھوڑ دیا۔اور لوط علیہ السلام کے متعلق آج کل کے ایک مفسر عام نے صاف لکھ دیا ہے کہ معاذ اللہ انہوں نے اپنی لڑکیوں سے شراب پی کر زنا کیا۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔وَ نَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنْ ہٰذِہِ الْخُرَافَاتِ وَا لْمَصَائِبِ۔حالانکہ ہمیں اپنی مہیمنکتاب میں جس میں صاف اللہ کریم فرماتے ہیں پتہ لگا ہے کہ شیطان لعین کا اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں پر جن میں انبیاء علہیم السلام سرتاج اور مخلصوں میں نائس رئیس ہیں ہرگز کچھ دخل و تصرف نہیں۔ایسی ہی اللہ تعالیٰ نے طالوت کی مدح سرائی فرمائی ہے اور ہمیں آگاہ فرمایا ہے کہ (البقرۃ :۲۴۸) اور یہ بھی فرمایا کہ(فاطر : ۲۹) پس کیا خشیت والے