ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 122
گا۔مجھے عَلِمْتُمْ کا ثبوت چاہیے۔یہ قصہ بہت طول اور تفصیل چاہتا ہے اورمجھے فرصت بہت کم ہے۔اگرآپ ملو تو تفصیل سنو۔والسلام۔۲؎ ( ۱؎ الحکم جلد ۷نمبر۱۶ مورخہ ۳۰؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۴۔۲؎ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۷۔مورخہ ۱۰؍ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۴) ایمان کے حصول کے ذرائع اوّل۔صبر کرے۔صبر کے معنے ہیں مصائب کے اوقات میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرے، شہوت کے مقابلہ میں حلم ، مصائب کے مقابلہ میں شجاعت غرض ہر بدی کو ترک کرنا اور ہرنیکی کو لے کر اس پر جمے رہنا حرص اور طمع کے مقابلہ میں شجاعت سے کام لے۔جلد بازی کے مقابلہ میں دور اندیشی سے کام لے۔دوم۔اگر کسی بدی کا کوئی موقع آیا ہے تو اس بدی کو کسی احسن تدبیر سے ہٹا دینا اور اس بدی اور اس کے شر سے بچ جانا۔سوم۔جو کچھ خدا تعالیٰ نے دیا ہوا ہے اس میں سے خواہ جسمانی طاقت ہو خواہ مال کی طاقت ہو آنکھ سے ہو سکے زبان سے ہو سکے قلم سے ہو۔غرض جس طرح بن پڑے اور جس چیز کی ضرورت ہو اس کو خرچ کرے مگر محض اللہ کی رضا کے واسطے۔چہارم۔وہ افعال واقوال جن سے حق اللہ اور حق العباد کا کوئی حصہ نہیں نکلتا ان کو ترک کردیں یعنی دینی یا دنیوی فوائد سے بے بہرہ امور سے الگ رہنا یعنی اعراض عن اللغو کرناچاہیے۔پنجم۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا اور خود بھی عامل ہونا۔بحث مباحثہ میں دشمن پر غلبہ پانے کی راہ اوّل۔بحث کی خواہش اور ابتدا نہ کرو۔دوم۔اگر کوئی مباحثہ کے لئے مجبور کرے تو پھر اللہ سے دعا کرو اور استغفار پڑھو۔