ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 120 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 120

۔(الانعام:۱۱۶) اور آپ کا دوسرا سوال کہ جب حکم الٰہی اورارادہ الٰہی ہو گیا کہ بندر ہو جاؤ کیا وجہ مانع ہوئی کہ بندر نہ ہوئے۔عزیز من! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ(التوبۃ :۱۱۹) توکیا سب راستبازوں کے ساتھ ہو گئے اور فرماتا ہے(البقرۃ:۱۸۶) … (المائدۃ:۷) توکیا سب لوگ یسر میں آگئے ہیںاورمطہر ہوگئے؟ کیا وجہ ہوئی کہ ارادہ الٰہی پورا نہ ہوا؟ بات یہ ہے جعل،کون،ارادہ،امر اوربہت سے اس قسم کے الفاظ دوطرح پرآئے ہیں اور یہ بحث بہت طویل ہے اصل مطلب تواتقان میں لکھا ہے۔مفسرین میں طبقہ تابعین اورتلامذہ ابن عباس سے مجاہد اعلیٰ درجہ پر ہے اورتفسیر کے طبقات یہ بھی لکھا ہے۔اِذَا جَائَ التَّفْسِیْرُ مِنْ مُّجَاہِدٍ فَحَسْبُکَ۔۱۔اب سنئے مجاہد فرماتا ہے۔قَالَ مُجَاہِدٌ مُسِخَتْ قُلُوبُہُمْ، وَلَمْ یُمْسَخُوْا قِرَدَۃً، وَإِنَّمَا ہُوَ مَثَلٌ ضَرَبَہُ اللّٰہُ لَہُمْ کَقَوْلِہٖ کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ أَسْفَارًا۔(فتح البیان فی مقاصد القراٰن تفسیر سورۃ البقرۃ :۶۶) الْمَرْوِیُّ عَنْ مُجَاہِدٍ أَنَّہُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی مَسَخَ قُلُوبَہُمْ بِمَعْنَی الطَّبْعِ وَالْخَتْمِ لَا أَنَّہُ مَسَخَ صُوَرَہُمْ وَہُوَ مِثْلُ قَوْلِہِ تَعَالَی: کَمَثَلِ الْحِمارِ یَحْمِلُ أَسْفاراً وَنَظِیرُہُ أَنْ یَقُولَ الْأُسْتَاذُ لِلْمُتَعَلِّمِ الْبَلِیْدِ الَّذِیْ لَا یَنْجَحُ فِیْ تَعْلِیمِہٖ: کُنْ حِمَارًا۔۔تفسیر کبیر۔المسالہ الثالثہ۔(تفسیر الرازی، سورۃ البقرۃ :۶۶) وَقَالَ مُجَاھِدٌ مَا مُسِخَتْ صُوَرُہُمْ وَلٰـکِنْ قُلُوبُہُمْ، فَمُثِّلُوْا بِالْقِرَدَۃِ کَمَا مُثِّلُوْا بِالْحِمَارِ۔(تفسیر ابو مسعود،سورۃ البقرۃ:۶۶) دوم۔خَاسِئِیْنَ جمع ہے ساتھ یا اور نون کے اور یہ جمع ذوی العقول کے لیے آتی ہے۔پس