ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 108
قصہ سے معلوم ہوتا کہ طینی بنو پھر عرش الٰہی تک اڑ سکو گے گویا وہ یہ تعلیم دیتے ہیں کہ شیطان کا مظہر نہ بنو۔شہید بھی طیر ہوتے ہیں گویا اس درجہ تک پہنچ جاؤ کہ شہید ہو سکو۔آستانہ الوہیت پر نرگدا ہوجائو ایک مرتبہ حضرت حکیم الامت سے ایک دوست رخصت ہونے کو آیا آپ نے اس کو رخصت کرتے وقت فرمایا۔انسان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے دروازہ پر نر گدا ہو جاوے یعنی وہ مانگتا ہی رہتا ہے اور ٹلتا نہیں۔اسی طرح پر جب انسان آستانہ الوہیت پر صبر اور استقلال کے ساتھ بیٹھ جاوے تو میرا اعتقاد ہے کہ وہ جو چاہے لے سکتاہے۔یہاں تک کہ قلم دوات بھی سونے کی بنا سکتا ہے۔نماز میں سات موقع دعا کے ہیں ان میں دعائیں کرے۔سکھ دکھ آنے کے اسباب سکھ اور دکھ دونوں یوں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں مگر دکھ اپنی کرتوتوں ہی کے بدلے میں آتا ہے اور سکھ فضل سے ہی آتا ہے۔مصلح کی آمد پر عادت اللہ عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جب کوئی ماموریامصلح آتا ہے تو اس کے ساتھ ایک جماعت شامل ہو جاتی ہے مگر ان میں کچے پکے ملے جلے ہوتے ہیں اس لئے امتیاز کے لئے مصائب اور مشکلات بھیج دیتا ہے۔(الحکم جلد ۷ نمبر۱۳ مورخہ ۰ا؍پریل ۱۹۰۳ء صفحہ۳) قرآن کریم کی نسبت چند امور ٭ قرآن شریف عمل کے لئے ہے اور عمل کے لئے ضروری ہے کہ اس کا علم ہو اور قرآن کا علم حاصل ہوتا ہے تقویٰ سے۔پس تقویٰ اختیار کرو۔اپنے گناہوں کی معافی کے لئے جب خدا تعالیٰ سے دعا مانگو تو چھپ کر اور آہستہ مانگا کرو۔