ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 103
نہیں کرتا اس وقت تک وہ ان فیو ض و برکات سے حصہ نہیںلے سکتا جو امام کے ذریعہ ملتے ہیں۔جب تک سچا پیوند اختیار نہیں کیا جاوے گا کوئی فائدہ مترتب نہیں ہو سکتا حقیقت میں یہ مثال بڑی ہی قابل قدر ہے اور اس سے بیعت کی ضرورت کا مسئلہ بخوبی سمجھ میں آتاہے۔فقط۔( الحکم جلد ۶ نمبر۳۰،مورخہ۲۴؍ اگست ۱۹۰۲، صفحہ۴) حکیم الامت اور لندنی خط حضرت مولانا مولوی حکیم نور الدین صاحب نے پھرذکر کیا کہ لندن سے ایک شخص نے مجھے خط لکھاکہ لندن آکر دیکھو کہ جنت عیسائیوں کو حاصل ہے یامسلمانوں کو۔میں نے اس کو جواب لکھاکہ سچی عیسائیت مسیح اور اس کے حواریوں میں تھی اور سچا اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ میں تھا پس ان دونوں کا مقابلہ کر کے دیکھ لو۔( الحکم جلد ۶ نمبر۳۰،مورخہ۲۴؍ اگست ۱۹۰۲ء صفحہ۵) فونوگراف اور حکیم الامت کاوعظ حضرت حکیم الامت کا ایک مختصر وعظ سورہ والعصر پر فونوگراف میں بند کیا گیا تھا ناظرین کے فائدہ کے لئے لکھا جاتا ہے۔اَعُوْذُ بِاللّٰہ ِ مِن الشَّیْطَان الرَّجَیْم۔ (العصر: ۱ تا ۴) اس مختصرسی سورئہ شریف میں اللہ تعالیٰ ربّ العالمین الرحمٰن الرحیم مالک یوم الدین نے محض اپنی رحمانیت سے کس قدر قرب کی راہیں اور آرام و عزت و ترقی کی سچی تدابیر بتائی ہیں۔اوّل یہ بتایا کہ کسی مرسل من اللہ کا زمانہ اور انسان کے کامل فہم اورتجارب صحیحہ کا وقت لوگوں کے لئے عصر تیسرا حصہ دن کا آخری وقت ہو تا ہے۔جس طرح عصر کے بعد پہروں کا وقت ان نمازوں کے لئے نہیں رہتا جو ایمان والوں کے معراج دعا اور قرب کا ذریعہ اور ہر ایک بے حیائی اور بغاوت سے روکنے کا سبب ہیں اسی طرح مرسل من اللہ کا زمانہ اور انسان کے فہم اور تجارب صحیحہ کے بعد اور